9 مئی مقدمات؛ یاسمین راشد کی درخواست ضمانت پر پراسیکیوشن کو ریکارڈ پیش کرنے کا آخری موقع
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
لاہور:
9 مئی مقدمات کے سلسلے میں ڈاکٹر یاسمین راشد کی ضمانت کی درخواستوں پر عدالت نے پراسیکیوشن کو ریکارڈ پیش کرنے کا آخری موقع دے دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں 9 مئی عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ سمیت 4 مقدمات میں ڈاکٹر یاسمین راشد کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت اے ٹی سی جج منظر علی گل کے روبرو ہوئی، جس میں پراسیکیوشن نے مقدمات کا ریکارڈ پیش کرنے کے لیے مہلت طلب کرلی ۔
کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پراسیکیوشن میٹنگ میں گئی ہیں، جس کی وجہ سے دلائل بھی نہیں دے سکتے ۔ عدالت نے پراسیکیوشن کے ریکارڈ پیش نہ کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا اور ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 15 نومبر تک ملتوی کر دی ۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے ریمارکس دیے کہ پراسیکیوشن کو ریکارڈ پیش کرنے کا آخری موقع دے رہا ہوں ۔ اگر آئندہ سماعت پر ریکارڈ پیش نہ کیا تو عدالت اپنےفیصلہ کر دے گی ۔
دورانِ سماعت ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہم نے ضمانت کی درخواستوں پر دلائل مکمل کر رکھے ہیں ۔ پراسیکیوشن کی وجہ سے ضمانتں پر فیصلہ تاخیر کا شکار ہے۔ ہم نے اپنے دلائل کی تائید میں عدالتی فیصلوں کی نقول بھی دے رکھی ہیں۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے مغلپورہ، زمان پارک اور جناح ہاؤس کے قریب چوک میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل ضمانت کی درخواستوں پر ڈاکٹر یاسمین راشد ریکارڈ پیش
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔