دل کے امراض اور فالج کا خطرہ کم کرنے والی دوا ایجاد
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
امریکی دوا ساز و بائیو ٹیکنالوجی کمپنی (مرک) کی جانب سے تیار کی گئی ایک نئی گولی نے دل کے امراض کے خطرے میں مبتلا افراد کے لیے خوشخبری دی ہے۔ یہ دوا، جس کا نام اینیلسائٹائڈ ہے، ہائی کولیسٹرول کے علاج کے طریقے بدل سکتی ہے اور دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، وہ بھی بغیر انجیکشن کے۔
یہ بھی پڑھیں: وزن کم کرنے کے لیے نئی مؤثر گولی آگئی، ایف ڈی اے منظوری رواں سال متوقع
اینیلسائٹائڈ خطرناک ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح کو 60 فیصد تک کم کرسکتی ہے، جو مارکیٹ میں موجود انجیکشن PCSK9 دواؤں کے برابر اثر رکھتی ہے۔ یہ گولی جگر کے ایک پروٹین PCSK9 کو بلاک کرتی ہے، جو خون سے کولیسٹرول نکالنے کی جسمانی صلاحیت کو سست کردیتا ہے۔
یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر ڈینیئل سوفّر نے کہا کہ ‘کم ہونا یقینی طور پر بہتر ہے۔’
24 ہفتوں پر مشتمل ٹرائل میں 2 ہزار 912 بالغ افراد شامل تھے، جنہیں پہلے دل کا دورہ، فالج یا دیگر قلبی امراض کا خطرہ تھا۔ جو افراد اینیلسائٹائڈ لے رہے تھے، ان میں LDL کولیسٹرول کی سطح پلیسبو لینے والوں کے مقابلے میں 60 فیصد تک کم ہوئی۔ محققین نے دونوں گروپوں میں ضمنی اثرات میں کوئی فرق نہیں پایا۔
اینیلسائٹائڈ مارکیٹ میں موجود PCSK9 انجیکشنز، جیسے Amgen کی Repatha اور Regeneron و Sanofi کی Praluent کا سادہ اور کم قیمت متبادل فراہم کرسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’میں نے ایک ایک کرکے نیند کی گولیاں جمع کیں تاکہ قتل کا منصوبہ مکمل کر سکوں‘
مرک ریسرچ لیبارٹریز کے صدر ڈاکٹر ڈین لی نے بتایا کہ کمپنی کی کوشش ہے کہ علاج کی قیمت کم رکھی جائے اور اسے استعمال میں اتنا آسان بنایا جائے جتنا اسپرین لینا۔ انہوں نے کہا: ‘ہمارا خواب ہے کہ PCSK9 کو عام لوگوں تک پہنچایا جائے اور یہ خواب حقیقت بننے کے قریب ہے۔’
PCSK9 کو بلاک کرنے والی گولی بنانا طویل عرصے تک ناممکن سمجھا جاتا رہا کیونکہ اس پروٹین کی ساخت چھوٹے مالیکیولز کے لیے نشانہ بنانا مشکل بناتی تھی۔
سائنسدانوں نے 10 سال کی محنت کے بعد ایک سرکلر پیپٹائڈ تیار کیا، جو ایک اینٹی باڈی کے سویں حصے کے برابر چھوٹا ہے اور انجیکشن کے کام کو گولی میں انجام دے سکتا ہے۔
مرک اب 14 ہزار 500 سے زائد افراد پر ایک بڑا مطالعہ کر رہا ہے تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ کولیسٹرول میں کمی دل کے دورے، فالج اور اموات کو واقعی کم کرتی ہے۔ کمپنی نے امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) سے منظوری کے لیے ابتدائی درخواست 2026 میں دینے کا ارادہ کیا ہے اور امید ہے کہ دوا 2027 میں مارکیٹ میں آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ہارمونیل تھراپی کے بعد جلن کے علاج کی نئی دوا ایجاد
بریگھم اینڈ ویمنز اسپتال، بوسٹن کے کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر کرسٹوفر کینن نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اگر نتائج برقرار رہے تو یہ واقعی ‘گیم چینجر’ ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا انجیکشن اینیلسائٹائڈ دل دوا ساز کمپنی فالج مرک نئی دوا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا انجیکشن اینیلسائٹائڈ دوا ساز کمپنی فالج نئی دوا کے لیے
پڑھیں:
ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا
نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔
ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔
فیچر کیسے کام کرتا ہے؟صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔
مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا
ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔
ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔
مختلف ڈسپلے موڈزنئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔
پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔
اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔
مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش
فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔
گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔
صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔
بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختمایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔
صارفین کا ردعملفیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔
تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ
ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر