ملتان، ایم ڈبلیو ایم کے زیراہتمام 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے علامہ قاضی نادر حسین علوی نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، آئین پاکستان کی حفاظت ہر شہری کا فریضہ ہے، آئین کو مسخ کرنے والوں کا محاسبہ کریں گے، حاکمیت صرف اللہ کی ہے 27 ویں آئینی ترمیم شریعت کے منافی ہے، جلدبازی میں ایسی ترامیم لائی جا رہی ہیں جو ملکی مفاد میں نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین ضلع ملتان کے زیراہتمام تحریک تحفظ آئین پاکستان کی اپیل پر ملک بھر کی طرح ملتان میں بھی نماز جمعہ کے بعد 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرے کی قیادت صوبائی آرگنائزر مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب علامہ قاضی نادر حسین علوی، ضلعی آرگنائزر ملتان عون رضا انجم ایڈووکیٹ، انجینئر سخاوت علی سیال، علامہ مجاہد جعفری، علامہ جعفر انصاری، جواد رضا جعفری نے کی۔ مظاہرین نے پاکستان زندہ باد، آئین پاکستان زندہ باد، 27 ویں آئینی ترمیم مردہ باد کے نعرے لگائے، مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے علامہ قاضی نادر حسین علوی نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
اُنہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کی حفاظت ہر شہری کا فریضہ ہے، آئین کو مسخ کرنے والوں کا محاسبہ کریں گے، حاکمیت صرف اللہ کی ہے 27 ویں آئینی ترمیم شریعت کے منافی ہے، جلدبازی میں ایسی ترامیم لائی جا رہی ہیں جو ملکی مفاد میں نہیں، چند افراد کو اس ملک میں طاقتور بنا کر قوم پر مسلط کیا جا رہا ہے، حالیہ ترامیم چاہے وہ 26ویں ہوں یا 27ویں قومی مفاد میں نہیں ہے، ہم حکومت کو واضح کر دینا چاہتے ہیں نہ کل کسی ایسی ترمیم کو قبول کیا تھا اور نہ آج کریں گے۔ اس موقع پر مولانا علی رضا حسینی، ثقلین نقوی، ہادی گردیزی سمیت دیگر موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43
— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026
رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں