Jasarat News:
2026-07-24@06:02:06 GMT

ججوں کا فرض انصاف دینا ہے، ڈانٹ ڈپٹ نہیں، پرویز رشید

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

ججوں کا فرض انصاف دینا ہے، ڈانٹ ڈپٹ نہیں، پرویز رشید

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سینیٹر پرویز رشید نے ایک پروگرام میں کہا کہ ججوں کا کام کسی کو ڈانٹنا، رسوا کرنا یا میڈیا کے ٹکر بنوانا نہیں بلکہ انصاف فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے صرف دو ججز نے استعفیٰ دیا ہے اور ان کا مؤقف ہے کہ آئین کو ختم کردیا گیا ہے اور عدالت تقسیم ہوچکی ہے، مگر باقی کسی جج نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا اور سب نے معمول کے مطابق اپنے عدالتی فرائض سرانجام دینا ضروری سمجھا۔ ان کے مطابق دو افراد کی رائے کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ کوئی بڑی عدالتی یا سیاسی تحریک جنم لے سکتی ہے۔

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کرنا پارلیمنٹ کا حق ہے اور یہ اختیار آئین نے عوامی نمائندوں کو دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سپریم کورٹ کے ججز بھی اسی آئین کی پیداوار ہیں، لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ پارلیمنٹ کا کیا گیا اقدام غیر آئینی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا یہ جج حضرات چاہتے ہیں کہ وہ صرف ایسے مقدمات سنیں جن میں سرکاری اہلکار یا منتخب نمائندے ہوں تاکہ وہ ان کی تضحیک کرسکیں، انہیں ڈانٹ سکیں یا نااہل قرار دے سکیں؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ججز قتل، قبضہ، شہری ناانصافی اور عوامی حقوق کے مقدمات نہیں سنیں گے، جو ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

مسلم لیگی رہنما نے مزید کہا کہ اعلیٰ عدالتوں کا اصل فریضہ ہر شہری کو انصاف فراہم کرنا ہے، نہ کہ روزانہ کی بنیاد پر میڈیا کی سرخیاں بنوانا یا مخصوص شخصیات کو نشانے پر رکھ کر کارروائیاں کرنا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی کرسی پر بیٹھ کر عوامی عدالت نہیں لگائی جاتی، بلکہ آئینی اور قانونی دائرے میں رہ کر انصاف فراہم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ حالیہ ترامیم عدالت کے نظام کو کمزور کرتی ہیں۔

پرویز رشید نے واضح کیا کہ 27ویں آئینی ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے منظور ہوئی ہے۔ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی سمیت کسی رکن نے ترمیم کے خلاف ووٹ نہیں دیا جبکہ سینیٹ میں 64 اراکین نے اس کے حق میں ووٹ دیا اور کوئی رکن مخالفت کیلئے کھڑا نہیں ہوا۔

ان کے مطابق یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ترمیم مکمل سیاسی اتفاق کے ساتھ منظور کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف صرف تین اراکین نے کیا جو جے یو آئی سے تعلق رکھتے تھے، اس کے علاوہ پورا ایوان متفق تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پرویز رشید انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن