تاجروں کی ڈیجیٹل ادائیگیوں میں سست روی سے حکومت کا ہدف خطرے میں پڑ گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کے ’’کیش لیس معیشت‘‘ کے منصوبے پر عمل درآمد کی رفتار سست پڑ گئی ہے اور اب تک ملک بھر میں صرف سات لاکھ سے بھی کم ریٹیلرز ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام سے منسلک ہو سکے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس میں وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت نے جون 2026 تک کم از کم 20 لاکھ تاجروں کو اس نظام میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، تاہم تاجروں کی جانب سے مزاحمت کے باعث یہ مقصد حاصل کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں اس وقت صرف 39 ہزار تاجر ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کے تحت فعال ہیں۔ اس منصوبے کی نگرانی وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے سپرد کی گئی ہے، جو اس عمل کو تیز کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ملک میں گردش کرنے والی کرنسی کی شرح 34 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
تاجروں کی ٹیکس نیٹ میں شمولیت سے گریز حکومت کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ قرار دی گئی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال تاجروں نے صرف 166 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا جب کہ تنخواہ دار طبقے نے اس کے مقابلے میں 606 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ ملک میں آگاہی مہمات کو تیز کیا جائے تاکہ دیہی علاقوں میں بھی عوام کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت سے روشناس کرایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیش لیس معیشت شفافیت کو فروغ دینے، کرپشن میں کمی اور بہتر طرز حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے۔
حکام نے بتایا کہ اسلام آباد میں دکانوں پر اسکین ایبل کوڈ کے ذریعے ادائیگیوں کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے اور نئے کاروباروں کے لائسنس کو ڈیجیٹل ادائیگیوں سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس نظام سے کاروباری لین دین میں شفافیت بڑھے گی اور نقدی کے استعمال میں کمی آئے گی۔
اس کے علاوہ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 10 ملین ڈیجیٹل والیٹس فعال کیے جا رہے ہیں جن کے ذریعے مستحق خاندانوں کو مالی امداد کی منتقلی جاری ہے۔ وزیراعظم نے اس پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے اور پاکستان کو اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔
انہوں نے مالی شمولیت کے اہداف مزید بڑھانے کی بھی ہدایت دی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ جدید معیشت کا حصہ بن سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈیجیٹل ادائیگیوں بتایا گیا کہ بریفنگ میں گئی ہے کے لیے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔