ممبئی، سینئر ترین اداکارہ کامنی کوشل 98 برس کی عمر میں چل بسیں
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
بالی ووڈ کی سینئر ترین اداکارہ کامنی کوشل 98 برس کی عمر میں چل بسیں
ممبئی (نیوزڈیسک)اداکارہ کے خاندان کے ایک قریبی دوست نے ان کی موت کی خبر کی تصدیق کی تاہم موت کی وجہ معلوم نہ ہوسکی اور نہ ہی خاندان نے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری کیا۔
فروری 1927 کو لاہور میں پیدا ہونے والی اوما کشیاب المعروف کامنی کوشل اپنی سات دہائیوں پر مشتمل فلمی اور ٹیلی ویژن کیریئر کے باعث جانی جاتی تھیں۔
انھوں نے لال سنگھ چڈھا، کبیر سنگھ، دو راستے اور نیچا نگر میں یادگار کردار ادا کیے۔ 1946 کی فلم نیچا نگر سے اپنے ہندی سینما کے کیریئر کا آغاز کرنے والی کامنی کوشل 1940 کے عشرے کی سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی ایکٹریس تھیں۔
انھوں نے اس عہد کی ہٹ فلموں آگ، شہید، ندیا کے پار اور ضدی میں کام کیا۔ کامنی کوشل نے اپنے عہد کے چوٹی کے اداکاروں دلیپ کمار، دیو آنند اور راج کپور کے ساتھ کام کیا، ان کی آخری فلم عامر خان کی لال سنگھ چڈھا تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کامنی کوشل
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔