شاہ زیب خانزادہ کو اہلیہ کے ہمراہ ہراسانی کا سامنا، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
نجی نیوز چینل کے پروگرام میزبان شاہ زیب خانزادہ کو ان کی اہلیہ کے ہمراہ ایک شاپنگ مال میں ہراساں کیا گیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
گزشتہ روز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی جس میں ایک شخص شاہ زیب خانزادہ کو شاپنگ مال میں ہراساں کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
ویڈیو میں اس شخص کی جانب سے کہا گیا کہ شاہ زیب خانزادہ نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف جو بھی حقائق پیش کیے، ان پر انہیں شرم آنی چاہیے۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شاہ زیب خانزادہ کے ہمراہ ان کی اہلیہ بھی موجود ہیں اور انہوں نے اس شخص کے لگائے گئے الزامات پر کوئی ردعمل نہیں دیا، بلکہ انتہا ئی تحمل کا مظاہرہ کیا۔
ویڈیو میں الزامات کی وضاحت نہیں کی گئی، تاہم پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شہباز گل نے خانزادہ کے سیاسی پروگرام کا پرانا کلپ شیئر کیا، جس میں صحافی بشریٰ بی بی کے عدت کیس پر بات کر رہے تھے، یہ کیس بشریٰ بی بی کی عدت کے دوران ان کی شادی سے متعلق تھا۔
شہباز گل نے کہا کہ شاہ زیب خانزادہ نے یہ گندگی کی تھی اور اگر میڈیا نے اس کی مذمت کی ہوتی تو صورتحال اس حد تک نہ پہنچتی، جس کا اشارہ صحافی کے ساتھ ہونے والے ہراسانی کی جانب تھا۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے واقعے کی مذمت کی اور جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کا کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ جو لوگ صحافیوں اور انکے بچوں کے نام اور اڈریس لکھتے ہیں، پھر سوشل میڈیا پر لگاتے ہیں کہ اِس کو مار دو، جیسے مزمل صاحب کے گھر کے اندر چھلانگ مار کے قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شاہزیب خانزادہ کے ساتھ جو ہوا، انتہائی قابل مزمت ہے ،ریاست کی جانب سے شاہزیب صاحب کو یقین دلواتا ہوں کہ ہم ٹریس کریں گے کہ وہ کون آدمی تھا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی فیملی کے ساتھ جا رہا ہو اور ہراسمنٹ کی جائے۔
جو لوگ صحافیوں اور انکے بچوں کے نام اور اڈریس لکھتے ہیں، پھر سوشل میڈیا پر لگاتے ہیں کہ اِس کو مار دو، جیسے مزمل صاحب کے گھر کے اندر چھلانگ مار کے قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ شاہزیب خانزادہ کے ساتھ جو ہوا، انتہائی قابل مزمت ہے ،ریاست کی جانب سے شاہزیب صاحب کو یقین دلواتا ہوں کہ ہم… pic.
اپنی ایک اور پوسٹ میں انہوں نے واقعے ویڈیو شیئر کی اور اس کی مذمت کی
Grace and patience shown by @shazbkhanzdaGEO
This attitude is unacceptable, such individuals should be identified and dealt with. Those who harass people while they are out with their families. This is no way of expressing difference of opinion https://t.co/TrMtOzB3wR
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ واقعہ پی ٹی آئی میں عمران خان کی پیدا کردہ ہجوم ذہنیت کی ایک اور گندی یاد دہانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہجوم شائستگی، وقار یا بنیادی انسانیت سے ناواقف ہے اور ان کا وجود صرف تصادم، افراتفری اور دھونس پر مبنی ہے، یہ سیاست نہیں، بلکہ بربریت کا بہانہ ہے۔
Shameful harassment of @shazbkhanzdaGEO and his wife yet another filthy reminder of the mob mentality Imran Khan has carefully bred within PTI. This crowd does not lack manners, they were never taught dignity, decency or basic humanity. Their entire existence feeds on…
— Marriyum Aurangzeb (@Marriyum_A) November 17, 2025بعدازاں شاہ زیب خانزادہ نے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو جواب دیتے ہوئے ان پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا۔
شاہ زیب خانزادہ نے کہا کہ شہباز گل جس وقت وزیر تھے اس وقت بھی ان کے کئی جھوٹ پکڑے گئے تھے اور وہ اب بھی جھوٹ بول رہے ہیں، ناقدین حقیقت کی پرواہ نہیں کرتے، چاہے وہ عمران خان کے حق میں ہوں۔
This is classic Shahbaz gill.When he was Minster he ws caught lying several times and here again he is lying. I m reporting court proceedings but this is what I said just before it in the same show. these trolls actually dont care abt facts even if they go in favour of Imran Khan https://t.co/yaoxXKhtgt pic.twitter.com/316czI4ote
— Shahzeb Khanzada (@shazbkhanzdaGEO) November 16, 2025
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شاہ زیب خانزادہ نے خانزادہ کے سوشل میڈیا نے کہا کہ شہباز گل کے ساتھ کی جانب کہ شاہ اور ان
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔