کراچی میں میڈیکل کے طلبہ میں نیند اور سکون آور ادویات کے بڑھتے استعمال کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہر قائد میں ہونے والی ایک تازہ تحقیق میں تشویش ناک انکشاف ہوا ہے کہ میڈیکل کالجز کے طالب علم ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی کے باعث سکون آور اور نیند لانے والی ادویات کا استعمال بڑھا رہے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ تحقیق جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن میں کی گئی، جس کے نتائج نے اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہاسٹل میں رہائش پذیر طلبہ میں یہ رجحان گھر سے آنے والے طلبہ کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔
تحقیق میں مجموعی طور پر 336 میڈیکل کے طلبہ شامل کیے گئے، جن میں سے 11 فیصد نے اعتراف کیا کہ وہ ذہنی سکون اور نیند کے لیے ادویات استعمال کرتے ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق گھر سے آنے والے طلبہ میں یہ شرح 8.
ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ زیادہ تر طلبہ benzodiazepines جیسی ادویات کا استعمال کر رہے ہیں، جو عام طور پر ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور نیند کی کمی کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
تحقیق کرنے والی ٹیم میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ہیلتھ سعودیہ عرب اور شفا کالج آف میڈیسن اسلام آباد کے ماہرین شامل تھے۔ ان ماہرین نے واضح کیا کہ نیند کی خرابی سکون آور ادویات کے استعمال کا بنیادی عنصر ہے اور یہ رجحان نشے کی عادت میں تبدیل ہونے کے خدشات کو بڑھا سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم شدید ذہنی دباؤ، انزائٹی، ڈپریشن اور نیند کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ طویل نصاب، سخت امتحانی نظام، مسلسل تعلیمی دباؤ اور والدین کی بلند توقعات طلبہ میں نفسیاتی دباؤ پیدا کر رہی ہیں، جس کے باعث وہ عارضی سکون کے لیے ادویات کا سہارا لینے لگے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف ان کی جسمانی صحت بلکہ مستقبل میں ان کے طبی معاملات پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ تحقیق میں شامل طلبہ کی عمریں 21 سے 23 سال کے درمیان تھیں، جن میں 187 طالبات اور 149 طالب علم شامل تھے۔ حیران کن طور پر متعدد طلبہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ بغیر کسی طبی نسخے کے ادویات خود خرید کر استعمال کرتے ہیں، جو نہ صرف غیر قانونی عمل ہے بلکہ صحت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے ذرائع کے مطابق میڈیکل طلبہ پر تعلیم کا دباؤ بے حد زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف اپنے مستقبل بلکہ والدین کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے بھی ذہنی طور پر مسلسل جدوجہد کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں کونسلنگ سیشنز اور رہنمائی پروگرام شامل ہیں تاکہ انہیں تناؤ اور پریشانی سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق اور نیند نیند کی کے لیے
پڑھیں:
سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
حکومتِ پنجاب نے سیکیورٹی خدشات(security risk) کے پیشِ نظر دفعہ 144 کے تحت پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کھلے مقامات پر ڈرون کے استعمال پر پابندی برقرار رہے گی۔
مزید پڑھیں:واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرونز کے محدود استعمال کی اجازت ہو گی تاہم اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمے داری منتظمین پر عائد ہو گی۔