پی ایس ایل حکام کی فرنچائزز سے اسٹیک ہولڈرز سے واجبات کے حصول میں مدد کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) حکام نے اسٹیک ہولڈرز سے واجبات کے حصول میں مدد کرنے کی درخواست کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) حکام، فرنچائز مالکان اور آفیشلز کی اہم میٹنگ ہوئی۔
میٹنگ میں ٹیم آفیشلز ویڈیو کال پر موجود رہے، میڈیا اور سوشل میڈیا میں تند و تیز بیانات کی وجہ سے شہرت حاصل کرنے والے ملتان سلطانز کے مالک علی ترین حیران کن طور پر شریک نہ ہوئے، البتہ ان کے نمائندے موجود تھے۔
میٹنگ کے دوران بورڈ حکام نے فرنچائزز سے یہ بھی کہا کہ اسٹیک ہولڈرز سے واجبات کے حصول میں آپ بھی اپنا کردار ادا کریں۔
یاد رہے کہ اب تک پی سی بی کو واجبات کا انتظار ہے۔
دریں اثناء سابق ڈائریکٹر انٹرنیشنل عثمان واہلہ نے ایک بار پھر پی ایس ایل کو جوائن کر لیا۔ وہ گزشتہ روز ہونے والی میٹنگ میں شریک ہوئے۔
میٹنگ میں باضابطہ طور پر فرنچائزز کو آگاہ کیا گیا کہ 11 ویں ایڈیشن میں مزید 2 ٹیموں کا اضافہ کیا جائے گا، البتہ مزید تفصیلات پر بات نہیں ہوئی، پلیئرز کی ریٹینشن پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔