افغان حکومت ٹی ٹی پی کیخلاف مؤثر کارروائی کرے تو پاکستان تعاون کیلئے تیار ہے: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک: وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے افغان حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے تو پاکستان تعاون کیلئے تیار ہے۔
بین الاپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا امن و استحکام ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ ترقی اسی معاشرے میں ممکن ہے جہاں امن اور سلامتی ہو۔
پی جی ٹرینی ڈاکٹروں کی سنی گئی
ان کا کہنا تھا پاکستان نے بھی کئی بار امن دشمن کارروائیوں کا سامنا کیا، ہم نے ہمیشہ استحکام اور دفاع وطن میں عزم کا مظاہرہ کیا، ہماری مسلح افواج نے بہترین پیشہ وارانہ کارکردگی سے دشمن کے عزائم ناکام بنائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس سال مئی میں مشرقی سرحد پر بلا اشتعال جارحیت کی گئی جبکہ گزشتہ ماہ افغان سرزمین سے پاکستانی چوکیوں پر حملے ہوئے جن کا پاکستان نے ٹھوس اور فیصلہ کن جواب دیا، دنیا بھر میں جاری تنازعات نے امن کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
طلبہ کی موج مستیاں ختم، تعلیمی اداروں پر ایک بڑی پابندی عائد
انہوں نے کہا کہ افغانستان کو سمجھنا ہو گا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی حمایت سے امن حاصل نہیں ہوگا، افغان حکومت ٹی ٹی پی و دیگر گروہوں کے خلاف موثر کارروائی کرے تو پاکستان تعاون کیلئے تیار ہے۔
خیال رہے کہ اسلام آباد میں جاری دو روزہ بین الاپارلیمانی کانفرنس میں آذربائیجان، ازبکستان، کینیا، فلسطین، مراکش، روانڈا، لائبیریا، بارباڈوس اور نیپال کے وفود کانفرنس میں شریک ہیں، کانفرنس کا مقصد عالمی امن، ترقی اور بین الاقوامی پارلیمانی روابط کے فروغ کو مضبوط بنانا ہے۔
عمران خان سے وکلاء کی ملاقات نہ کرانے پر عدالت برہم، سیکرٹری داخلہ و دیگر کو نوٹس
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ٹی ٹی پی
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔