نقب زنی کا ملزم گرفتار، کروڑوں مالیت کا چوری شدہ مال برآمد
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
لاہور میں نقب زنی کے مطلوب ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے جس سے کروڑوں مالیت کا چوری شدہ مال بھی برآمد ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کی ہدایات پر جرائم پیشہ عناصر کے گرد گھیرا مزید تنگ ہوگیا ہے۔ ایس ایس پی انوسٹی گیشن محمد نوید نے انچارج شاد باغ انویسٹی گیشن تنزیل الرحمٰن کو ملزم کی گرفتاری کا ٹاسک دیا تھا۔
ایس ایس پی محمد نوید نے برآمد ہونے والے طلائی زیورات اور دیگر سامان مالکان کے سپرد کر دیا جبکہ ملزم سے ساڑھے 3 کروڑ مالیت کے 70 تولے طلائی زیورات، آرٹیفشل جیولری، 6 قیمتی گھڑیاں اور 2ٹیب برآمد ہوئے۔
ملزم سے موبائل فونز، 6 عدد ایل سی ڈی اور آلات نقب زنی برآمد ہوئے۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ ملزم دن کے وقت ریکی کرتا اور جن گھروں پر تالے لگے ہوتے رات کے وقت قیمتی سامان چوری کر کے فرار ہو جاتا تھا۔
دوران تفتیش ملزم نے شہر کے مختلف علاقوں میں نقب زنی کی متعدد وارداتوں کا انکشاف کیا۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ جرائم پیشہ عناصر کیخلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے انچارج انویسٹی گیشن شادباغ تنزیل الرحمٰن اور پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان میں تعریفی اسناد تقسیم کیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انویسٹی گیشن ایس ایس پی
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔