آج آزادی کا دن ہے، کیوں نہ مناؤں: چوہدری انوار الحق مظفرآباد روانہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے والے آزاد کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق مظفرآباد روانہ ہوگئے۔
روانگی سے قبل انہوں نے کشمیر ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’آج کے دن سے متعلق ایک ہی بات کہنا چاہتا ہوں کہ شکر الحمدللّٰہ آج آزادی کا دن ہے، کیوں نہ سیلیبریٹ کروں۔‘
انہوں نے نئے آنے والے وزراء کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اللّٰہ پاک ان کو کامیاب کرے، اللّٰہ تعالیٰ نے تقریباً ڈھائی سال خدمت کا موقع دیا، میں 6 ماہ پہلے ہی جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔‘
چوہدری انوار الحق کشمیر ہاؤس سے مظفرآباد روانہوزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کشمیر ہاؤس سے مظفرآباد روانہ ہوئے، جہاں ان کے ہمراہ وزیر حکومت چوہدری اظہر صادق اور عامر الطاف بھی تھے۔
چوہدری انوار الحق آج اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری میں حصہ لیں گے، آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر 3 بجے طلب کیا گیا ہے۔
رائے شماری مکمل ہوتے ہی نامزد وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور اپنے عہدے کا حلف لیں گے جبکہ چوہدری انوار الحق رائے شماری کے بعد عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔
روانگی سے قبل چوہدری انوار الحق نے کشمیر ہاؤس میں اسٹاف کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں، آفس اسٹاف اور سیکیورٹی اسٹاف نے علیحدہ علیحدہ تصاویر بنوائیں، وزیراعظم معمولی سیکیورٹی کے ہمراہ مظفرآباد روانہ ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: چوہدری انوار الحق مظفرآباد روانہ کشمیر ہاؤس
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔