مظفرآبا د‘اعوان آباد( نیوز ڈیسک) وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری آج ہو گی ‘ کامیابی کیلئے 27ووٹ درکار ‘پیپلزپارٹی کا دوتہائی اکثریت کا دعویٰ‘منحرف پی ٹی آئی ارکان پر فلورکراسنگ کا قانون لاگونہیں ہوگا‘تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں پیپلز پارٹی کے فیصل ممتاز راٹھور آزاد کشمیر کے سولہویں جبکہ موجودہ اسمبلی کے چوتھے وزیر اعظم ہوں گے‘تمام تیاریاں مکمل ‘اسمبلی سیکرٹریٹ وزراء بلاک وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں سیکورٹی کے سخت انتظامات ‘پی پی نے اپنے حمایت یافتہ ارکان کوآزاد کشمیر میں رہنے کی ہدایت کردی ‘پیپلز پارٹی کے تمام اراکین کے موبائل فون بند ہیں‘ کسی سے کوئی رابطے میں نہیں ہے‘ذرائع نے بتایا ہے کہ پیپلزپارٹی کے تمام ارکان ایک ساتھ ایوان میں داخل ہونگے ‘ادھرپی ٹی آئی نے بھی اپنے منحرف ارکان کے خلاف فلورکراسنگ کا ریفرنس تیار کرلیاہے۔ تفصیلات کے مطابق آج سہ پہر تین بجے اسپیکر چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیرقانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس ہوگا ‘عدم اعتماد پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور مسلم لیگ نواز کی جانب سے پیش کی جا رہی ہے‘ صرف ارکان اسمبلی اور اسمبلی سیکریٹریٹ ملازمین کو داخلے کی اجازت ہوگی‘ ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ کےاراکین بھی اجلاس میں اکھٹے پہنچیں گے ‘تحریک انصاف کے چار اراکین اور مسلم کانفرنس کے ایک ممبر عدم اعتماد کی تحریک میں حصہ نہیں لیں گے ‘ان کے ارکان اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں ہونگے‘ 53 کے ایوان میں پیپلز پارٹی 39 اراکین کی حمایت کے ساتھ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے پرعزم ہے ‘عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے 27 اراکین اسمبلی کی حمایت درکار ہوگی ‘ارکان اسمبلی ہاتھ اٹھا کر قرار کی حمایت میں ووٹ دیں گے‘ مخالفت میں ووٹ دینے کا آپشن نہیں ہوگا‘ جوعدم اعتماد میں حصہ نہیں لیں گے وہ اجلاس میں شریک نہیں ہونگے‘27 یا اس سے زیادہ ووٹ پڑنے پر چوہدری انوار الحق وزارت عظمیٰ کے عہدے سے فارغ ہوجائیں گے ۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف جماعت کے طور پرالیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ نہیں ہے اس کے 32 اراکین اسمبلی کی حیثیت آزاد اراکین ہونے پر 28اراکین اسمبلی نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں شمولیت اختیار کر لی‘ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اگر کسی سیاسی جماعت میں اپنی دفاداری تبدیل کرتے ہیں ان پر فلوکراسنگ کا ایکٹ لاگو نہیں ہو گا۔ آزاد جموں کشمیراسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پندرہ اور مسلم لیگ نون کے آٹھ اراکین سمیت ممبران اسمبلی کی تعداد 53ہے جن میں سے اکثریت اپنی سیاسی جماعت پی ٹی آئی سے منحرف ہوکرکبھی ایک اور کبھی دوسری منڈھیر پر گرنے کو تیار نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی ایوان میں پندرہ نشستوں کے ساتھ چالیس ممبران کی حمایت کی دعویدار ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: تحریک عدم اعتماد اراکین اسمبلی پیپلز پارٹی پارٹی کے کی حمایت

پڑھیں:

پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا

پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا۔

ویسٹ انڈیز کی قیادت روسٹن چیز کریں گے جبکہ جومیل واریکن کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

اسکواڈ میں جوشوا بیشپ، تیج نارائن چندرپال، جوشوا ڈی سلوا، جسٹن گریوز، کیوم بوج، شے ہوپ، عامر جینگو، شیمار جوزف، برینڈن کنگ، کرک میک کینزی، گڈاکیش موتی، کیمو پال، کیمار روچ، جیڈن سیلز اور جومیل واریکن شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز 25 جولائی سے ہوگا۔

        View this post on Instagram                      

قومی ٹیم نے آخری مرتبہ 2023 میں سری لنکا کو اس کی سرزمین پر 2-0 سے ٹیسٹ سیریز میں شکست دی تھی، تاہم اس کے بعد پاکستان مسلسل سات بیرونِ ملک ٹیسٹ میچ ہار چکا ہے۔

اس سیریز میں پاکستان کی قیادت دوبارہ بابر اعظم کر رہے ہیں جنہیں شان مسعود کی جگہ ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن