Express News:
2026-07-24@04:42:59 GMT

اندھی گولیاں، خودکشیاں اور ہلاکتیں

اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT

روزنامہ ایکسپریس میں شایع ہونے والی خبروں کے مطابق ٹریفک حادثات کے علاوہ گھر بیٹھے، راہ چلتے، ٹرین کی زد میں آ کر لاتعداد ہلاکتیں اورکمسن بچے تک موت کے منہ میں چلے گئے۔

فقیر کالونی میں نامعلوم اندھی گولیوں کی زد میں آ کر آٹھ سالہ بچہ ہلاک، شیر خوار بچی، بلدیہ میں کمسن لڑکا۔ 16 سالہ ارباز زخمی، ٹرین کی زد میں آ کر دو افراد ہلاک ایک زخمی، ناگن چورنگی پل سے گر کر ایک شخص ہلاک جب کہ روزانہ ہونے والے حادثات کا اندازہ سال رواں 697 لوگوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ دس ہزار چار سو افراد زخمی ہوئے۔ شہر میں بھاری تیز رفتار گاڑیوں سے دو سو پانچ اور تیز رفتار ٹرالروں کی زد میں آ کر 78 افراد لقمہ اجل بنے جب کہ لیاری ندی میں گر کر ڈوبنے والے بچوں کی تو لاشیں بھی نہیں ملتیں۔ لیاری ندی میں ایک لیڈی ڈاکٹر نے دو ماہ قبل چھلانگ مار کر جان دے دی تھی جس کی لاش اب تک نہیں ملی۔

شہر کے کھلے گٹروں میں بچوں کے ڈوبنے کی کوئی سرکاری تعداد اس لیے موجود نہیں کہ بہت سے لوگ اپنے بچوں کی لاشیں نکال کر دفنا دیتے ہیں۔ شہر میں جو بڑے گندے پانی کے نالے موجود ہیں ان میں آئے دن لاشیں ملنا معمول ہے جہاں لاشیں اتنی مسخ ہو جاتی ہیں کہ پہچان میں نہیں آتیں اور دفنا دی جاتی ہیں۔ لیاری ندی سے نوجوان خاتون کی جب دو ماہ میں لاش برآمد نہ ہو سکے تو بچوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا، کھلے ہوئے گٹروں میں چھوٹے بچے ڈوب جائیں تو ان کی لاشیں بہہ کر کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہیں یا ملتی نہیں، غائب ہو جاتی ہیں۔

کراچی کے سمندر میں نیٹی جیٹی پل سے لوگ چھلانگ مار کر خودکشیاں کرتے ہیں یا نہانے والے اپنی غلطیوں سے سمندر برد ہو جاتے ہیں اور اکثر کی لاشیں برآمد ہی نہیں ہوتیں یا سمندری مخلوق کی خوراک بن جاتی ہیں جن کا کہیں کوئی ریکارڈ نہیں ملتا، نہ کسی کو ریکارڈ رکھنے کی خواہش ہے اور اس طرح کراچی میں لوگ مختلف جگہوں پر حادثات کا شکار ہوتے رہتے ہیں جن کی خبریں میڈیا میں آ جاتی ہیں یا بہت سی ہلاکتوں کا پتا ہی نہیں چلتا۔نامعلوم سمتوں سے آنے والی گولیاں کوئی تو چلاتا ہے جس سے اب کمسن بچے بھی محفوظ نہیں رہے۔

یہاں تو سرعام دن دہاڑے فائرنگ کرکے فرار ہو جانے والے ہی کو پولیس گرفتار نہیں کر پاتی تو اندھی گولیاں چلا کر بے گناہوں کو جانی نقصان پہنچانے والے کیسے پولیس کی گرفت میں آ سکتے ہیں۔ دن دہاڑے سرعام لوگوں کو قتل کرنے والے ملزمان باآسانی فرار ہو جاتے ہیں اور ان فرار ہونے والوں کے چہرے سڑکوں کنارے یا گھروں کے باہر لگے سی سی ٹی وی میں آ جاتے ہیں وہ شناخت ہی نہیں کیے جاتے تو پکڑے کیسے جائیں۔ شہر بھر میں پولیس ان کو پکڑنے پر کم ہی توجہ دیتی ہے کیونکہ شہر میں گشت پر مصروف کہلانے والوں کو تھانوں کے محرروں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ریڑھی پتھاروں سے بیٹ وصول کرنا ہوتی ہے۔

ہر ہفتے کے روز کباڑیوں کے پاس جا کر خرچہ وصول کرنے کے لیے یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ کہاں گھر بنائے جا رہے ہیں یا چھتوں کی بھرائی کی جگہ پہنچ کر مٹھائی وصول کرنی ہوتی ہے، کوئی فراہمی و نکاسی آب کے پائپ بدلنے یا نئے ڈالنے والے کے پاس واٹر بورڈ اہلکاروں سے پہلے علاقہ پولیس پوچھ گچھ کے لیے پہنچ جاتی ہے کہ انھوں نے یوسی سے اجازت لی یا نہیں؟روزانہ اخباروں میں خودکشیاں کرنے والوں کی خبریں شایع ہو رہی ہیں اور 18 سال سے کم عمر بچے بھی اب خودکشیاں کر رہے ہیں جن کی وجوہات اکثر والدین ظاہر نہیں کرتے اور اپنے بچوں کی دائمی جدائی پر رو دھو کر چپ ہو جاتے ہیں۔مہنگائی، بے روزگاری، قرضوں کی ادائیگی کے مسائل کا سامنا کیسے کریں، اس لیے خودکشی کا آسان حل ڈھونڈ لیا گیا ہے، اب خودکشیاں کراچی ہی نہیں چھوٹے شہروں میں بھی ہو رہی ہیں جن سے حکمرانوں کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ حالات سے تنگ آ کر خودکشیاں کرنے والوں کو ان کے اپنے ہی نہیں پوچھتے تو حکومت کو کیا پڑی کہ معلوم کریں کہ ملک میں خودکشیاں کیوں ہو رہی یا بڑھ رہی ہیں؟

حکمرانوں کا کام عیش و آرام سے وقت گزارنا، سرکاری مراعات سے فیض یاب ہونا رہ گیا ہے یا وہ اپنے سرکاری اقدامات سے نئے نئے ٹیکس لگانے، مہنگائی و بے روزگاری اور اپنوں کو نوازنے ہی میں اتنے مصروف رہتے ہیں کہ معلوم کر لیں کہ ان کے اقدامات سے غریبوں پر کیا گزر رہی ہے کیونکہ مختلف وجوہات میں مرنا صرف غریبوں کا مقدر بن چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی زد میں آ کر خودکشیاں کر جاتی ہیں جاتے ہیں ہی نہیں ہیں جن

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا