پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پرتشویش ہے‘ٹرانسپورٹ الائنس
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق رکن سندھ اسمبلی اور صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد اعوان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس پر شدید ردعمل دیا ہے۔ ایک وڈیو بیان جاری کرتے ہوئے ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی ہم پوری ٹرانسپورٹ برادری مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات، ٹول ٹیکسز، اور ود ہولڈنگ ٹیکس میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے جس سے ٹرانسپورٹ سیکٹر اور عوام دونوں ہی متاثر ہو رہے ہیں۔ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ حکومتی پالیسیاں ہمیں ملک گیر ہڑتال کی طرف لے جانے پر مجبور کر رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر حکومتی پالیسیاں اسی طرح جاری رہیں تو ہم جلد ہی اپنے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے اور اپنے حقوق کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھائیں گے۔ملک شہزاد اعوان نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ ٹرانسپورٹ برادری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اپنے کرائے 4 فیصد بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ملک شہزاد اعوان نے
پڑھیں:
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا تعین اوگرا کی جانب سے کیا گیا ہے جو آج رات 12 بجے سے کل رات 12 بجے تک نافذ العمل ہوگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے کا بڑا اضافہ کیا گیا تھا۔