نوجوان کی ہلاکت کا پراسرار واقعہ، تفتیش میں اہم انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں واقع گبول پارک کے قریب جمعرات کی شب فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کے حوالے سے عینی شاہد کا بیان جھوٹا نکلا، فائرنگ سے جاں بحق نوجوان عام شہری تھا جو فائرنگ کی زد میں آکر زندگی کی بازی ہار گیا۔تفصیلات کے مطابق واقعے کے بعد عینی شاہد نے سوشل میڈیا پر بیان کی ویڈیو شیئر کی جس میں جاں بحق نوجوان کو مبینہ طور پر فرار ہونے والے ملزمان کا ساتھی ہونے کا دعوی کیا تھا جو کہ تفتیش کے دوران غلط اور بے بنیاد ثابت ہوا۔ایس ایچ او مبینہ ٹاون چوہدری نواز نے بتایا کہ تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ کار سوار افراد جس میں 3 لڑکے اور ایک لڑکی سوار تھی ان سے ڈاکو لوٹ مار کر رہے تھے کہ اس دوران فائرنگ ہوئی اور اس فائرنگ کے تبادلے میں وہاں سے گزرنے والا نوجوان عبد المقصد فائرنگ کی زد میں آگیا جسے سر پر گولی لگی تھی۔انہوں نے بتایا کہ مقتول پی آئی بی کالونی کا رہائشی تھا اور وہ عظیم گبول گوٹھ میں اپنے ماموں کے گھر جا رہا تھا کہ فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہوگیا۔ فائرنگ کے واقعے کے فوری طور پر اس بات کا تعین نہیں ہو پا رہا تھا کہ مقتول نوجوان کیسے اور کس کی فائرنگ سے جاں بحق ہوا تاہم تفتیش میں نوجوان کا فائرنگ کرنے والوں سے کسی قسم کا کوئی تعلق سامنے نہیں آیا اور وہ بے گناہ فائرنگ کی زد میں آکر جان سے چلا گیا۔پولیس کے مطابق واقعے کے بعد وڈیو بیان دینے والا عینی شاہد بھی غائب ہے جس نے تاحال پولیس سے رابطہ نہیں کیا ہے اور اس حوالے سے پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے۔ نوجوان کی ہلاکت کے واقعے سے متعلق گلی کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے کہ سڑک پر گاڑیوں کی آمد و رفت جاری تھی کہ اس دوران نوجوان عبدالمقصد موٹر سائیکل سمیت گرتے اور رگڑتے ہوئے سڑک کے کنارے تک جاتے ہوئے دکھائی دیا اور دوران وہاں سے گاڑیاں بھی گزرتی رہیں۔فوٹیج میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں تاہم کچھ سیکنڈوں کے بعد موٹر سائیکل سوار 2 افراد نوجوان کے قریب سے گزرتے ہوئے دکھائی دیئے جس میں پیچھے بیٹھا ہوا ملزم چلتی ہوئی موٹر سائیکل سے نوجوان کو فائرنگ کا نشانہ بناتے ہوئے دکھائی دیا اور وہاں سے ساتھی سمیت فرار ہوگیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فائرنگ کی زد میں ا نوجوان کی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔