سٹی42:   مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کے قریبی معتمد اور سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی کے اہل خانہ نے سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی افواہوں کی سختی سے تردید کر دی ہے اور بتایا ہے کہ عرفان صدیقی علیل ضرور ہیں لیکن اس قدر نہیں کہ انہین وینٹی لیتر پر منتقل کرنا پڑے۔ اس طرح کی تمام افواہین قابلِ مذمت ہیں۔

مسلم لیگ نون کے سینئیر کارکن سینیٹر عرفان صدیقی مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہیں، ان سے متعلق سوشل میڈیا پر جھوٹ پر مبنی افواہیں پھیلانا  انتہائی قابل مذمت اور قابل افسوس ہے۔ 

مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی منظوری کے بعد مجوزہ آئینی ترمیم کا مسودہ آج سینیٹ میں پیش ہوگا  

 ذرائع اہل خانہ سینیٹر عرفان صدیقی کی فیملی کے ذرائع نے بتایا کہ جان بوجھ کر پھیلائی جا رہی جھوٹی اطلاعات سے سینیٹر عرفان صدیقی کے اہل خانہ کو شدید ذہنی صدمہ پہنچا ہے۔ 

سینیٹر عرفان صدیقی کو وینٹی لیٹر پر منتقل نہیں کیا گیا۔   وہ سانس کی تکلیف کے باعث انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیر علاج  تھے اور بدستور وہیں ہیں۔ 

عرفان صدیقی سانس کی تکلیف کے باعث گزشتہ کچھ دن سے اسلام آباد کے مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

بلوچستان میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری اور منہ ڈھانپنے پر پابندی لگ گئی

افواہ پھیلانے والوں کا مدعا

افواہ پھیلانے والوں نے سینیٹر عرفان صدیقی کی صحت کے مسئلہ کو لے کر اس قدر بڑھایا چڑھایا کہ انہیں وینٹی لیتر پر ہی بھیج دیا۔ اس افواہ کا بطاہر مقصد سینیٹ آف پاکستان میں آئین مین 27 ویں ترمیم کی منظوری کے لئے "حکومت کو درکار ووٹوں کی تعداد کم ہو جانے کا تاثر" پیدا کرنا تھا۔ سینیتر عرفان صدیقی کی علالت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے والے بیشتر لوگ اس افواہ کے ساتھ یہ ھوالہ بھی دیتے پائے گئے کہ حکومتی بنچوں کا ایک ووٹ کم ہو گیا۔ بعض یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کرتے رہے کہ سینیٹر صدیقی دراصل 64 واں ووٹ ہیں، ان کی عدم موجودگی میں ترمیم منطور نہیں ہو پائے گی۔ آج شان یہ سب افواہ غلط ثابت ہوئی، عرفان صدیقی ہسپتال میں ہیں لیکن بہرحال بہتر حالت میں ہیں اور سینیٹ نے آئین میں 27 ویں ترمیم سہولت کے ساتھ منطور ہو گئی ہے۔ 

عمان میں دو روزہ سرکاری تعطیلات کا اعلان

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سینیٹر عرفان صدیقی عرفان صدیقی کی اہل خانہ

پڑھیں:

  جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی

فیصل جمیل :گلگت بلتستان انتخابات 2026 کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنما انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں،انتخابات کیلئے پولنگ 7 جون کو ہوگی۔

 الیکشن سے قبل ہی حاجی اکبر تابان امیدوار پاکستان مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی، مہا جرین 1971 نے مسلم ن کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

  دوسری جانب  چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور خاتون اول آصفہ بھٹو آج گلگت اور ہنزہ کا دورہ کریں گے، دونوں رہنما ہنزہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کریں گے جبکہ بلاول بھٹو زرداری کی گلگت میں پارٹی ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر  سکردو اور دیگر اضلاع میں انتخابی سرگرمیوں میں مصروف رہیں گے، وہ پارٹی رہنماؤں کے انتخابی دفاتر کا دورہ کریں گے اور کارکنان سے بھی خطاب کریں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق، عابد شیر علی، مرتضیٰ جاوید عباسی اور عابد رضا کوٹلہ مختلف مقامات پر جلسوں سے خطاب کریں گے۔

  پارٹی ذرائع کے مطابق ن لیگی رہنما آج مجموعی طور پر چار مقامات پر عوامی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

 ادھر وفاقی وزیر انجنئیر امیر مقام بھی گلگت میں موجود ہیں جہاں ان کی مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں شیڈول ہیں۔

 گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں کی جانب سے ووٹرز کو متحرک کرنے کی کوششیں آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں ۔
 

متعلقہ مضامین

  • جزوی لاک ڈاون، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی
  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت