سینیٹر عرفان صدیقی شدید علیل، آئی سی یو میں زیر علاج
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی شدید علالت کے باعث اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں زیر علاج ہیں۔
اس حوالے سے سینیٹر عرفان صدیقی کے اہلخانہ نے کہا ہے کہ عرفان صدیقی سانس کی تکلیف کے باعث انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیر علاج ہیں۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ عرفان صدیقی سانس کی تکلیف کے باعث گزشتہ کچھ دن سے اسلام آباد کے مقامی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
اسلام آباد ستائیسویں آئینی ترمیم سینٹ سے آج ہی.
ذرائع کا بتانا ہے کہ سینیٹر عرفان صدیقی علالت کے باعث 27ویں آئینی ترمیم کے لیے ووٹ بھی کاسٹ نہیں کر سکیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کی تمام 49 شقوں کی منظوری دی تھی جس کے بعد اس بات کا امکان ہے کہ آج سینیٹ کے اجلاس میں آئینی ترمیم پیش کی جائے گی۔
دوسری جانب متحدہ اپوزیشن نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف تحریک چلانے اور پارلیمنٹ کو نہ چلنے دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سینیٹر عرفان صدیقی کے باعث
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔