اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے تعاون پر اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا اور ان کے اعزاز کے عشائیہ دیا۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتی اور اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کے اعزاز میں عشائیہ دیا جہاں حکومتی اور اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کا خیر مقدم کیا اور 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے عمل میں ان کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور تمام اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کے مشکور ہیں، تمام اتحادی جماعتوں نے اس قومی سوچ کا بھرپور ساتھ دیا۔

ایران میں پانی کی شدید قلت، شہر مشہد میں ڈیموں کا ذخیرہ تین فیصد سے بھی کم رہ گیا

انہوں نے کہا کہ وفاق کی مضبوطی، ملک کے وسیع مفاد، صوبوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے اور گورننس کو بہتر کرنے کے لیے 27ویں آئینی ترمیم کے لیے ہم سب نے مل کر کوشش کی، اس حکومت کے دوران حاصل کیے گئے تمام سنگ میل حکومت اور اتحادی جماعتوں کے باہمی تعاون کا نتیجہ ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کامیابیاں اور دنیا میں نام تمام اتحادی جماعتوں کے مابین ہم آہنگی اور باہمی اتحاد کی عکاس ہے، ہم سب کی مشترکہ کوششوں کی بدولت پاکستان کو شان دار مقام حاصل ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی معاشی صورت حال میں بتدریج بہتری ہو رہی ہے، اللہ کے فضل و کرم سے ملک میں سیاسی و معاشی استحکام کی بدولت ملک کی سمت درست ہوئی اور ملک کی ترقی و خوش حالی کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہے۔

ہوشیار :کراچی میں نیپا چورنگی سے وفاقی اردو یونیورسٹی تک سڑک کتنے دنوں تک بند رہے گی؟ جانیے

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف اتحادی جماعتوں کے نے کہا کہ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری