وزیراعظم کا حکومتی و اتحادی سینیٹرز کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ، ترمیم کی منظوری پر تعاون کا شکریہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاق کی مضبوطی، ملک کے وسیع مفاد، صوبوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے اور گورننس کو بہتر بنانے کی غرض سے 27ویں آئینی ترمیم کے لیے ہم سب نے مل کر کوشش کی، تمام اتحادی جماعتوں نے قومی سوچ کا بھرپور ساتھ دیا، ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہے۔
اتوار کو وزیرِ اعظم شہباز شریف نے حکومتی اور اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں عشائیہ دیا، جس میں اتحادی جماعتوں کے سینئٹرز اور وفاقی وزرا سمیت ن لیگ، پیپلز پارٹی، ایم کیوایم، بلوچستان عوامی پارٹی اور اے این پی کے سینٹرز بھی شریک ہوئے۔
وزیراعظم کی جانب سے اتحادی جماعتوں کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں لذید کھانوں سے تواضع کیا گیا، عشائیے میں مہمانوں کی تواضع چانپ، مٹن کڑاہی، فش، پلاو، پائے، بار بی کیو سمیت دیگر پکوانوں سے کی گئی۔
اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے تمام سینیٹرز کا خیر مقدم اور 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے عمل میں ان کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اتحادی جماعتوں
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔