Jasarat News:
2026-06-03@01:44:24 GMT

مذہبی ہم آہنگی کیلیے موثرکردار جاری رکھے گے‘سنی تحریک

اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان سنی تحریک کی مرکزی کابینہ اجلاس ثروت اعجاز قادری، بلال عباس قادری اور بلال سلیم قادری کی صدارت میں دوسرے روز بھی جاری رہا۔شرکائے اجلاس نے اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا کہ پاکستان سنی تحریک ملک میں اتحادِ اہلِ سنت، مذہبی ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں جاری رکھے گی۔اجلاس میں تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، صوبائی و ضلعی سطح پر تنظیمی تربیتی اجلاس منعقد کرنے اور نوجوانوں کو جماعتی سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ شامل کرنے پر بھی زور دیا گیا۔مرکزی صدر پاکستان سنی تحریک صاحبزادہ علامہ بلال عباس قادری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دینِ اسلام اور ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے لیے ہم اپنے قائدین کے نقشِ قدم پر گامزن ہیں۔ پاکستان سنی تحریک کی جدوجہد کا مقصد ملک میں اتحادِ امت، امن، انصاف اور بھائی چارے کے پیغام کو عام کرنا ہے۔ ہمارے قائدین نے ہمیشہ ہمیں وطنِ عزیز کی خدمت، مظلوموں کا ساتھ دینے اور اسلام کے پیغامِ محبت و امن کو پھیلانے کی تعلیم دی ہے۔ ہم اسی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے قوم کی بہتری اور اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے عملی اقدامات جاری رکھیں گے۔مرکزی سیکرٹری جنرل پاکستان سنی تحریک صاحبزادہ علامہ بلال سلیم قادری شامی نے کہا کہ ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے مختلف سازشیں کی جا رہی ہیں،اہلسنّت عوام،ذمہ داران اور کارکنان کسی قسم کے پروپیگنڈے میں نہ آئیں۔دشمن قوتیں اہلسنّت کو تقسیم کر کے اپنے ناپاک عزائم پورے کرنا چاہتی ہیں،مگر پاکستان سنی تحریک کا ہر کارکن قیادت کے فیصلوں پر عمل پیرا رہے گا۔ملک کی سلامتی،استحکام اور اتحاد کے لیے تنظیمی نظم و ضبط اور اتحادِ اہلسنّت کو برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان سنی تحریک کے لیے

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ