اسلام آباد اور وانا حملے کرنے والے افغانستان سے آئے، ہمارے مقامی ملوث نہیں، وزیر داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
فیلڈ مارشل عاصم منیر کہہ چکے ہیں دہشتگردوں سے کوئی بات نہیں ہوگی، محسن نقوی کا قبائلی عمائدین سے خطاب - کولاج فوٹو: اسکرین گریب
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد اور وانا حملے کرنے والے افغانستان سے آئے، ہمارے مقامی لوگ دھماکوں میں ملوث نہیں۔
وانا میں قبائلی عمائدین سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کہہ چکے ہیں دہشتگردوں سے کوئی بات نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل اس کیڈٹ کالج وانا کو پہلے سے بہتر بنوائیں گے۔
محسن نقوی نے کیڈٹ کالج وانا کا دورہ کیا۔ کیڈٹ کالج آمد پر آئی جی فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا جنوبی میجر جنرل مہر عمر خان نے وزیر داخلہ کا خیر مقدم کیا۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرحد پار سے دہشتگردی ہو رہی ہے۔ اسلام آباد میں دھماکا ہوا افغانستان سے لوگ آئے۔ وانا میں حملہ ہوا تو افغانستان سے لوگ آئے۔ ہمارے مقامی لوگ دھماکوں میں ملوث نہیں۔
اس دوران قبائلی عمائدین نے کہا کہ دہشت گرد اسلام کے مخالف کام کر رہے ہیں، ہم کسی بھی قسم کی دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتے۔
قبائلی عمائدین کا کہنا تھا کہ ہم ٹی ٹی پی کو نہیں مانتے۔ پاک فوج دن رات ہماری حفاظت کے لیے قربانیاں دے رہی ہے، وانا کے غیرت مند لوگ کسی بھی دہشت گرد کا ساتھ نہیں دیتے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ہمارے بچوں کو اعلیٰ تعلیم فراہم کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قبائلی عمائدین افغانستان سے وزیر داخلہ کیڈٹ کالج نے کہا
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔