کیا نواز شریف کو حکومت سے نکالنے کا فیصلہ آزادانہ تھا؟، ملک احمد خان
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
---فائل فوٹو
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ مستعفی ہونے والے ججز ایسے تھے جیسے پارٹیز تھیں، کیا نواز شریف کو حکومت سے نکالنے کا فیصلہ آزادانہ تھا۔
ملک محمد احمد خان نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان ججز کا انصاف اور سزا صرف ایک پارٹی کے لیے تھی، عمر عطا بندیال کے فیصلے متعصبانہ تھے، جس کا دل کرتا ہے منتخب لوگوں کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دیتا ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ جج صاحبان کے استعفوں کا سلسلہ ابھی رکے گا نہیں، آئین کا حلیہ بگاڑ دیا گیا تھا، ایک عرصے سے کہہ رہے تھے کہ پارلیمنٹ کو اس کا حق دیا جائے۔
ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ آئین کو اپنی اصل روح کے مطابق واپس لایا جا رہا ہے، 27ویں آئینی ترمیم پر ایک سیاسی جماعت سیاست کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔