وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو ایک منظم سازش کے تحت وزیرِاعظم کے عہدے سے ہٹایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ تاریخ اس لیے بیان کر رہے ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آج پارلیمان کی ترمیم پر اعتراض کرنے والے ججز اُس وقت خاموش تھے جب ’کینگرو کورٹس‘ بنا کر نواز شریف کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

نواز شریف کو ہٹانے کا آغاز کہاں سے ہوا، یہ سب کے سامنے آنا چاہیے

وزیر دفاع نے کہا کہ اُس وقت عدلیہ کے کچھ مخصوص افراد کی ’غیرت‘ نہیں جاگی، ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت نواز شریف کو نااہل کرنے اور سیاست سے باہر کرنے کا عمل جاری تھا، وہی افراد آئین کی بے توقیری بھی کرتے رہے اور آج پارلیمانی ترمیم کے خلاف بول رہے ہیں۔

ججز کے رویے پر تنقید

خطاب میں خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ چند ججز نواز شریف کے مقدمات کے دوران اپنے اہل خانہ تک کو بلا کر کہتے تھے کہ دیکھو آج ہم نواز شریف کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج یہی ججز شاعری بھی کرتے ہیں، سیاسی بیانات بھی دے رہے ہیں، جبکہ اپنے ماضی کے کردار اور فیصلوں کو بھول گئے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کا کردار ہمیشہ بھیانک رہا

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ہر تاریخی موڑ پر عدلیہ کا کردار انتہائی مایوس کن رہا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ایسی کوئی بات نہیں کریں گے جو مزید تلخی کا باعث بنے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: نواز شریف کو نے کہا کہ رہے ہیں

پڑھیں:

گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف

ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف