وزیرداخلہ محسن نقوی کا کیڈٹ کالج وانا کا دورہ، خوارجیوں کا حملہ ناکام بنانے والے جوانوں کو شاباش
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
اویس کیانی :وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کیڈٹ کالج وانا کا دورہ کیا جہاں آئی جی فرنٹیئر کور خیبرپختونخوا ساوتھ میجر جنرل مہر عمر خان نے ان کا استقبال کیا۔
وزیر داخلہ نے دورے کے دوران خوارجیوں کا حملہ ناکام بنانے اور تمام کیڈٹس و اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کرنے والے پاک فوج کے بہادر افسران اور جوانوں سے ملاقات کی۔محسن نقوی نے پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔
ویلڈن گرین شرٹس۔تھینک یو سری لنکا;چئیرمین پی سی بی محسن نقوی
محسن نقوی نے کالج کے طلبا اور اساتذہ سے بھی ملاقات کی اور ان کے بلند حوصلے اور جذبے کی تعریف کی، انہیں خوارجیوں کے حملے کی تفصیلات اور پاک فوج و ایف سی کی جانب سے کیے جانے والے کامیاب ریسکیو آپریشن پر بریفنگ بھی دی گئی۔
وزیر داخلہ نے پاک فوج اور ایف سی کے جوانوں کی جرات، فرض شناسی اور پیشہ ورانہ مہارت کو بھرپور انداز میں سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اصل میں دہشت گرد بھی نہیں، یہ درندے ہیں جن کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں، کوئی بھی مذہب بچوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا، ان درندوں کا کوئی مذہب نہیں، ان کو انسان کہنا انسانیت کی توہین ہے۔
پاکستان نے سری لنکا کو ہرا دیا
انہوں نے مزید کہا کہ پاک فوج اور ایف سی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام طلبا اور اساتذہ کو بحفاظت نکال کر بہادری اور پروفیشنل ازم کی شاندار مثال قائم کی، دشمن کا منصوبہ سانحہ اے پی ایس جیسی کارروائی دہرانا تھا، تاہم دلیر جوانوں نے حملہ ناکام بنا کر خوارجیوں کو جہنم واصل کیا اور سازش کو پوری طرح خاک میں ملا دیا۔
وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ کیڈٹ کالج وانا کی بہترین انداز میں تزئین و آرائش کی جائے گی تاکہ طلباء کو معیاری اور محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے، تمام طلباء کو بحفاظت ریسکیو کرنے والے پاک فوج اور ایف سی کے افسر و جوان پوری قوم کے ہیرو ہیں، جن پر پاکستان کو فخر ہے۔
بھارتی کرکٹر کا خاتون کے خلاف ہراسمنٹ کا مقدمہ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ محسن نقوی پاک فوج ایف سی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔