ٹک ٹاک میں ایک نیا فیچر بلیٹن بورڈ متعارف
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)ٹک ٹاک نے ایک نیا فیچر بلیٹن بورڈ متعارف کرایا ہے۔اس فیچر کا مقصد برانڈز اور کریٹیرز کو اپنے فالوورز کے ساتھ ایک جگہ مواد شیئر کرنے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔یہ بنیادی طور پر انسٹا گرام کے براڈ کاسٹ چینلز جیسا فیچر ہے۔انسٹا گرام کے براڈ کاسٹ چینلز کی طرح صرف کریٹیر ہی کسی ٹک ٹاک بلیٹن بورڈ پر میسجز پوسٹ کرسکے گا جبکہ فالوورز محض ایموجیز کے ذریعے ری ایکشن ظاہر کرسکیں گے۔یہ فیچر 18 سال یا اس سے زائد عمر کے ان صارفین کو دستیاب ہوگا جن کے فالوورز کی تعداد کم از کم 50 ہزار ہوگی۔اس فیچر کا مقصد کریٹیرز اور کمپنیوں کے لیے اپنے فالوورز سے نیوز اور اپ ڈیٹس کو شیئر کرنا آسان بنانا ہے جبکہ وہاں وہ اپنا خصوصی مواد بھی پوسٹ کرسکیں گے۔یعنی صارفین کوئی اپ ڈیٹ اسٹوری یا معمول کی ٹک ٹاک پوسٹ کی بجائے اسے بلیٹن بورڈ پر شیئر کرسکیں گے جو صرف ان کے فالوورز تک محدود ہوگی۔اس فیچر کی آزمائش جون 2025 سے ہو رہی تھی اور اب جاکر اسے متعارف کرایا گیا ہے۔کمپنی کے مطابق بلیٹن بورڈ پر تمام مواد کو کمیونٹی گائیڈلائنز کے اصولوں کا خیال رکھنا ہوگا۔کمپنی نے بتایا کہ کریٹیرز اپنے ان باکس پر جاکر بلیٹن بورڈ کو قائم کرسکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلیٹن بورڈ ٹک ٹاک
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔