کانگریس لیڈر نے بی جے پی پر ووٹ چوری اور بگڑتے ہوئے آلودگی کے بحران سے لاتعلقی کا الزام لگاتے ہوئے لاکھوں ہندوستانیوں کی صحت اور مستقبل کے تحفظ کیلئے فوری اور فیصلہ کن کارروائی پر زور دیا۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے دہلی کے انڈیا گیٹ پر بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے خلاف احتجاج کرنے والے شہریوں کو نشانہ بنانے کے لئے مودی حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ صاف ہوا کا حق ایک بنیادی انسانی حق ہے، پُرامن مظاہرین کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک نہیں ہونا چاہیئے۔ اتوار کے روز دہلی کی پولیس نے انڈیا گیٹ پر ان مظاہرین کو حراست میں لے لیا تھا جو حکومت سے قومی دارالحکومت میں فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لئے پالیسیاں بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ نئی دہلی ضلع کے ڈی سی پی دیوش کمار مہالا نے اس موقع پر کہا ہے انڈیا گیٹ کوئی احتجاج کی جگہ نہیں ہے۔

انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں راہل گاندھی نے بی جے پی پر ووٹ چوری اور بگڑتے ہوئے آلودگی کے بحران سے لاتعلقی کا الزام لگاتے ہوئے لاکھوں ہندوستانیوں کی صحت اور مستقبل کے تحفظ کے لئے فوری اور فیصلہ کن کارروائی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صاف ہوا کا حق بنیادی انسانی حق ہے۔ پُرامن احتجاج کے حق کی ضمانت ہمارے آئین نے دی ہے۔ پُرامن طور پر صاف ہوا کا مطالبہ کرنے والے شہریوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے، فضائی آلودگی لاکھوں ہندوستانیوں کو متاثر کر رہی ہے، ہمارے بچوں اور ہمارے ملک کے مستقبل کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ ووٹ دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آنے والی حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس بحران سے نمٹنے کے لئے کوئی کوشش کر رہی ہے، ہمیں صاف ہوا کا مطالبہ کرنے والے شہریوں پر حملہ کرنے کے بجائے اب فضائی آلودگی پر فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے اتوار کے روز دہلی پولیس نے انڈیا گیٹ پر مظاہرین کو حراست میں لے لیا اور حکومت سے قومی دارالحکومت میں فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لئے پالیسیاں بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

نئی دہلی ضلع کے ڈی سی پی دیوش کمار مہالا نے کہا کہ انڈیا گیٹ کوئی احتجاج کی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق نئی دہلی میں نامزد احتجاج کی جگہ جنتر منتر ہے، لہٰذا ہم نے سب کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہدایات پر عمل کریں۔ لوگ انڈیا گیٹ پر اپنے خاندانوں کے ساتھ لطف اندوز ہونے کے لئے آتے ہیں اور یہ ایک قومی یادگار ہے، یہاں وی آئی پی راستے ہیں، ہم یہاں باقاعدگی سے تعینات ہیں۔ عام آدمی پارٹی کی ترجمان پرینکا ککڑ نے الزام لگایا کہ حکمراں بی جے پی حکومت نے ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کو کم کرنے کے لئے مانیٹروں پر پانی کا چھڑکاؤ کیا۔ انڈیا گیٹ پر احتجاج میں حصہ لیتے ہوئے پرینکا ککڑ نے حکومت سے دہلی میں فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لئے پالیسیاں بنانے کا مطالبہ کیا۔

پرینکا ککڑ نے کہا کہ بی جے پی نے ریڈنگ کو کم کرنے کے لئے ایئر کوالٹی انڈیکس مانیٹر پر پانی کا چھڑکاؤ کیا۔ بی جے پی اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کر رہی ہے۔ اس سے بی جے پی کی ایمانداری اور ساکھ مجروح ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ بی جے پی ممبران کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیئے لیکن وہ گھر میں اپنے ایئر پیوریفائر کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ بی جے پی کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہوا اور پانی سیاست کے معاملات نہیں ہیں۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB) کے اعداد و شمار کے مطابق قومی دارالحکومت میں ہوا کا معیار اتوار کو "شدید" زمرے میں پہنچ گیا، مجموعی طور پر ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) صبح 7 بجے 391 ریکارڈ کیا گیا۔ شہر کے کئی حصوں میں خطرناک آلودگی کی سطح ریکارڈ کی گئی جس میں AQI ریڈنگ 400 سے تجاوز کر گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کو کم کرنے کے لئے راہل گاندھی نے فضائی آلودگی کا مطالبہ کر صاف ہوا کا نے کہا کہ بی جے پی کے ساتھ رہی ہے

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ