data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے بچی کی ہلاکت میں ملوث شاہ میڈیکل سینٹر کو دوبارہ سیل کردیا۔تفصیلات کے مطابق سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے شاہ میڈیکل سینٹر، نارتھ ناظم آباد کو سنگین خلاف ورزیوں،غیر قانونی طور پر اسپتال چلانے اور مسلسل عدم تعمیل کے باعث دوبارہ سیل کر دیا ہے۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اسپتال ایک نومولود بچی کی ہلاکت کے واقعے کے بعد ایس ایچ سی سی کو موصول ہونے والی شکایت کے فیصلے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔انکوائری کمیٹی میں ایس ایچ سی سی کے ایکسپرٹ پینل نے اسپتال کو سیل کرنے کے احکامات جاری کیے اور انتظامیہ کے ساتھ باضابطہ خط و کتابت بھی کی، تاہم اسپتال نے احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا۔دو دن قبل اسپتال کے مالک اور عملے نے ایس ایچ سی سی کے حکام کو پولیس اہلکاروں سمیت ہراساں کیا اور یرغمال بناکر بدتمیزی کی اور سرکاری کارروائی میں رکاوٹیں ڈالیں۔اس موقع پر اسپتال کو جزوی طور پر سیل کرکے اور واضح ہدایت جاری کی گئی تھیں کہ 24 گھنٹوں میں داخل مریضوں کو دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا جائے اور مزید کسی قسم کا اِن ڈور مریض داخل نہ کیا جائے۔ مگر اسپتال انتظامیہ نے سیلیں توڑ کر غیر قانونی طور پر اسپتال کو دوبارہ کھول دیا اور انتہائی نگہداشت یونٹس (NICU, ICU) میں نہایت نازک حالت کے مریض بغیر کسی تجویز کے داخل کیے، جو مریضوں جان کو شدید خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔گذشتہ شب ہونے والی کارروائی میں، ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اور پولیس کی معاونت کے ساتھ ایس ایچ سی سی ٹیم نے مزاحمت کے باوجود احکامات پر عمل کروایا اور اسپتال کو مکمل طور پر سیل کر دیا۔اسپتال میں موجود تمام مریضوں کی مناسب معاونت کی گئی اور انہیں محفوظ طریقے سے دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ مریضوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے اور صوبے کے تمام صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والے اداروں کو لازمی طور پر مقرر کردہ معیارات اور قوانین کی پابندی کرنی ہوگی۔

مانیٹرنگ ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایس ایچ سی سی اسپتال کو

پڑھیں:

کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے

فائل فوٹو۔

جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔ 

جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے