وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کیخلاف تحریک عدم اعتماد ایوان میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد ایوان میں پیش کر دی گئی۔
تحریک عدم اعتماد میں متبادل قائد ایوان کے طور پر فیصل ممتاز راٹھور کا نام پیش کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے ایوان سےخطاب میں کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص ہی آئین اور انتظامی ڈھانچے کی تباہی کا ذمے دار ہو، کیا میری کابینہ کے ممبران اس کے ذمے دار نہیں؟
انہوں نے کہا کہ آج کا خطاب باتیں ریکارڈ پر لانے کے لیے کر رہا ہوں، اس ایوان نے مجھے جنم دیا، آج ان سب کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔ مجھے اسی ایوان سے کہا گیا کہ 15 فروری تک اسمبلی تحلیل کر دو۔
انوارالحق کا کہنا ہے کہ اپنی پوری کابینہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری آزادی کے پروا نے پر دستخط کیے، کہا گیا آپ کو بکتربند گاڑی پر لے کر جاتے ہیں، میں نے کہا کہ سیاسی کارکن ہوں۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ الحمداللّٰہ آج یہاں سے سرخرو ہو کر جا رہا ہوں، میں نے بارہا کہا کہ میری موجودگی میں تقسیم کشمیر کا کوئی فارمولہ نہیں ہوسکتا، مہاجرین کی نشستون کو ختم کرنے پر دستخط کرتا تو یہ میری سیاسی موت تھی، میں نے یہاں سے مودی کو بھی للکارا، اسے فتنہ خوارج نہیں فتنہ ہندوستان کہا۔
رائے شماری مکمل ہوتے ہی نامزد وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور اپنے عہدے کا حلف لیں گے جبکہ چوہدری انوار الحق رائے شماری کے بعد عہدہ چھوڑ دیں گے۔
چوہدری انوار الحق آج اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری میں حصہ لیں گے
واضح رہے کہ تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے والے آزاد کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق مظفرآباد روانہ ہوگئے ہیں۔
روانگی سے قبل انہوں نے کشمیر ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دن سے متعلق ایک ہی بات کہنا چاہتا ہوں کہ شکر الحمدللّٰہ آج آزادی کا دن ہے، کیوں نہ سیلیبریٹ کروں۔
انہوں نے نئے آنے والے وزراء کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللّٰہ پاک ان کو کامیاب کرے، اللّٰہ تعالیٰ نے تقریباً ڈھائی سال خدمت کا موقع دیا، میں 6 ماہ پہلے ہی جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: چوہدری انوار الحق تحریک عدم اعتماد کہا کہ
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز