اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم آج سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم ابن الحسین آج وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر 2 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔
دورے کے دوران اردن کے فرماں روا کی ملاقاتیں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ہوں گی جن میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شاہ اردن سے ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
دفتر خارجہ سے جاری اعلامیے کے مطابق اردن کے بادشاہ پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
ایوانِ صدر میں ایک خصوصی تقریب بھی منعقد ہوگی جس میں بادشاہ کو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز پیش کیا جائے گا۔
اعلامیے کے مطابق بادشاہ عبداللہ دوم ابن الحسین کا یہ دورہ پاکستان اور اردن کے دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا اور دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے دائرہ کار اور وسعت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اردن سرکاری دورہ وزیراعظم شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سرکاری دورہ وزیراعظم شہباز شریف اردن کے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔