افغان طالبان عبوری حکومت میں پاکستان مخالف لابی سرگرم ہے، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ افغان طالبان عبوری حکومت میں پاکستان مخالف لابی سرگرم ہے، مسلح دہشت گردوں کو زبردستی سرحد پار دھکیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور، برادر ممالک ترکی اور قطر کی ثالثی میں، 7 نومبر 2025 کو استنبول میں مکمل ہوا۔
پاکستان برادر ممالک ترکی اور قطر کی ان مخلصانہ کوششوں کی دل سے قدر کرتا ہے، جو انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی کے اُس بنیادی مسئلے پر ثالثی کے لیے کیں، جو افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف جاری ہے۔
گزشتہ چار برسوں سے، جب سے افغانستان میں طالبان حکومت برسر اقتدار آئی، افغان سرزمین سے پاکستان پر دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان برسوں کے دوران پاکستان نے، فوجی اور شہری جانی نقصان اٹھانے کے باوجود، انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور جوابی کارروائی سے گریز کیا۔
پاکستان کی توقع تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ طالبان حکومت ان حملوں پر قابو پا لے گی اور افغان سرزمین پر موجود ٹی ٹی پی / فتنۃ الخوارج کے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرے گی۔
ان برسوں میں پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مثبت تعلقات قائم رکھنے کی کوشش بھی کی، جس کے تحت دوطرفہ تجارت میں سہولتیں فراہم کی گئیں اور انسانی بنیادوں پر امداد دی گئی۔ پاکستان کی نیت ہمیشہ یہی رہی ہے کہ افغانستان ایک مستحکم، پُرامن اور خوشحال ملک بنے جو اپنے اندر اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن سے رہے۔
تاہم، پاکستان کی جانب سے تجارت، انسانی امداد، تعلیمی و طبی ویزوں میں سہولت، اور بین الاقوامی فورمز پر طالبان حکومت کے ساتھ مثبت رابطے کی ترغیب دینے کے باوجود، طالبان حکومت کی جانب سے محض کھوکھلے وعدے اور عدمِ عمل کے سوا کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی بنیادی توقع — کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے — پر عمل کرنے کے بجائے طالبان حکومت ہمیشہ ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات سے گریز کرتی رہی ہے۔
اس کے برعکس، وہ اصل مسئلے یعنی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کے لیے غیر متعلقہ اور فرضی معاملات کو سامنے لاتی رہی ہے۔ اس طرح طالبان حکومت ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کرتی رہی ہے جو اسے بین الاقوامی برادری اور اپنے عوام کے سامنے اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ظاہر کرے۔
افغانستان سے مسلسل ہونے والے حملوں کے جواب میں اکتوبر 2025 میں پاکستان کی کارروائی اس عزم اور ارادے کی عکاس تھی کہ پاکستان اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔
ٹی ٹی پی/ فتنۃ الخوارج اور بی ایل اے/فتنۃ الہندوستان ریاست پاکستان اور اس کے عوام کے دشمن قرار دیے جا چکے ہیں۔ جو کوئی بھی ان کی پناہ، مدد یا مالی اعانت کرے، وہ پاکستان اور اس کے عوام کا خیر خواہ نہیں سمجھا جاتا۔ پاکستان اپنے مفادات اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
اسی کے ساتھ پاکستان امن اور سفارت کاری کا بھی مضبوط حامی ہے۔ پاکستان ہمیشہ یہ مؤقف رکھتا آیا ہے کہ طاقت کا استعمال آخری چارہ کار ہونا چاہیے۔ اسی جذبے کے تحت، اور برادر ممالک ترکی اور قطر کے مخلصانہ مشورے پر عمل کرتے ہوئے، پاکستان نے مخلص دوستوں کی ثالثی میں پاک-افغان امن مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔
ان مذاکرات کے پہلے دور میں دوحہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور ذمہ داری کے چند اصولوں پر اتفاق ہوا، جس کے نتیجے میں پاکستان نے عارضی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی۔
دوسرا دور استنبول میں ہوا، جس کا مقصد دوحہ میں طے پانے والے اقدامات کے نفاذ کا طریقہ کار وضع کرنا تھا۔ تاہم طالبان حکومت کے نمائندوں نے عملی اقدامات سے گریز کیا اور اپنے کیے ہوئے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اشتعال انگیز اور الزام تراش میڈیا بیانات کے ذریعے ماحول کو بھی خراب کیا۔ پاکستان نے اپنے بنیادی مطالبے — یعنی افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف قابلِ تصدیق اور مؤثر کارروائی — پر سختی سے مؤقف برقرار رکھا۔
تیسرے دور میں بھی پاکستان نے تعمیری رویہ اپنایا اور ایک مؤثر مانیٹرنگ میکانزم کے قیام پر توجہ مرکوز رکھی۔ لیکن افغان فریق نے دہشت گردی کے بنیادی مسئلے سے توجہ ہٹانے اور غیر متعلقہ و بے بنیاد الزامات کے ذریعے مذاکرات کے دائرہ کار کو پھیلانے کی کوشش کی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جو کوئی بھی ترکی اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کا جائزہ لے، وہ آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ طالبان حکومت کا اصل مقصد صرف عارضی جنگ بندی کو طول دینا تھا، بغیر اس کے کہ وہ ٹی ٹی پی/ فتنۃ الخوارج اور بی ایل اے/فتنۃ الہندوستان عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کرتی۔ اس کے برعکس، افغان حکومت نے پاکستان کے خلاف جھوٹے الزامات اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے مذاکرات کو طول دیا اور کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچنے کی کوششوں کو ناکام بنایا۔
ساتھ ہی طالبان حکومت افغانستان میں موجود پاکستانی دہشت گردوں کے مسئلے کو انسانی ہمدردی کے پردے میں چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ آپریشن ضربِ عضب (2015) کے بعد، ٹی ٹی پی/ فتنۃ الخوارج کے دہشت گرد افغانستان فرار ہو گئے تھے۔ انہوں نے افغان طالبان ISAF اور اس وقت کی افغان حکومت کے خلاف جنگ میں مدد کی تھی۔ اب طالبان حکومت ان دہشت گردوں اور ان کے خاندانوں کو اپنے پاس پناہ دے رہی ہے۔ یہی دہشت گرد اب افغانستان میں تربیتی کیمپ چلا کر پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کر رہے ہیں۔
پاکستان نے طالبان حکومت سے ان دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے، لیکن طالبان حکومت نے بارہا انکار کیا ہے، یہ کہہ کر کہ ان کے قابو میں نہیں۔ اب یہ معاملہ صلاحیت سے زیادہ نیت کا بن چکا ہے۔ طالبان حکومت کے کھوکھلے وعدے اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔ پاکستان کے عوام اور ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے اب ٹھوس اور حتمی اقدامات ضروری ہیں۔
طالبان حکومت ٹی ٹی پی/ فتنۃ الخوارج اور بی ایل اے/فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں کو پناہ گزین ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن یہ انسانی یا پناہ گزینوں کا معاملہ نہیں، بلکہ دہشت گردوں کو پناہ گزین بنا کر پیش کرنے کا ایک فریب ہے۔
پاکستان ہر اس پاکستانی کو واپس لینے کے لیے تیار ہے جو افغانستان میں مقیم ہے، بشرطے کہ انہیں طورخم یا چمن کی سرحدی گزرگاہوں پر باضابطہ طور پر حوالے کیا جائے، نہ کہ انہیں جدید ہتھیاروں سے لیس کر سرحد کے اُس پار دھکیلا جائے۔
پاکستان نے کبھی کابل میں کسی حکومت کے ساتھ بات چیت سے انکار نہیں کیا، تاہم پاکستان کسی دہشت گرد تنظیم، خواہ وہ ٹی ٹی پی/ فتنۃ الخوارج اور بی ایل اے/فتنۃ الہندوستان ، کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغان طالبان میں ایسے عناصر موجود ہیں جو پاکستان کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے، مگر ایک مضبوط گروہ — جو بیرونی عناصر کی مالی مدد سے سرگرم ہے — کشیدگی بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
اپنی حکومت کے اندرونی اختلافات کو ختم کرنے اور جائز حیثیت حاصل کرنے کی کوشش میں، طالبان حکومت کے بعض عناصر اور پاکستان مخالف دہشت گرد گروہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کو مفید سمجھتے ہیں۔ ان کے بیانات اور الزامات پاکستان کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کو ہوا دے رہے ہیں، جس سے وہ پاکستان میں موجود اپنی باقی ماندہ نیک نیتی بھی کھو رہے ہیں۔
طالبان حکومت کے کچھ عناصر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان میں افغان پالیسی پر اختلافات ہیں، لیکن یہ ایک گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔ پاکستانی عوام میں اس معاملے پر مکمل اتفاق ہے کہ افغانستان میں چھپے دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے سب سے بڑے متاثرین خود پاکستانی عوام ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں، اور پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے تاکہ پاکستان کے مفادات اور عوام کی زندگیوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
پاکستان اپنے تمام اندرونی چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان نے بارہا طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کی حمایت بند کرے۔
اگست 2021 کے بعد افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی میں اضافے کے ٹھوس اور مستند شواہد کے پیشِ نظر طالبان حکومت نہ تو اس حقیقت سے انکار کر سکتی ہے اور نہ ہی اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتی ہے۔
اسی طرح طالبان حکومت کے بعض عناصر پاکستان میں پشتون قوم پرستی کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان کے پشتون ایک متحرک، قومی دھارے کا حصہ ہیں اور سیاست و انتظامیہ کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ پاکستان میں افغانستان سے زیادہ پشتون آباد ہیں۔ لہٰذا طالبان حکومت کو پاکستان میں پشتون قوم پرستی کو ہوا دینے کے بجائے اپنے ملک میں تمام نسلی گروہوں کی شمولیت پر غور کرنا چاہیے۔
جبکہ افغان طالبان دہشت گردی کو پاکستان کا ”اندرونی مسئلہ“ قرار دیتے ہیں، وہ یہ نہیں بتاتے کہ افغانستان میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے جواز میں فتوے جاری کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں میں اب بڑی تعداد افغان شہریوں کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان اور آئین کے مینڈیٹ کے تحت، پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں اور وہ عوام کی مکمل حمایت کے ساتھ یہ قربانیاں جاری رکھیں گی۔
پاکستان دوطرفہ اختلافات کے حل کے لیے مکالمے کا پابند ہے۔ تاہم، پاکستان کا بنیادی تحفظاتی مسئلہ — یعنی افغانستان سے آنے والی دہشت گردی — سب سے پہلے حل کیا جانا ضروری ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اور عوام اپنے عزم میں متحد ہیں کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اور اس کے سہولت کاروں، معاونین اور مالی مددگاروں کے خلاف کارروائی کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:
بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔
یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔
اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔
ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔
اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔