data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن /جینوا( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام کے صدر اور وزیر داخلہ پر عاید پابندیاں اٹھا لیں۔عالمی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے جمعہ کے روز دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے منسلک شامی صدر کو خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گردوں کی فہرست سے نکال دیا جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی شامی صدر الشراع اور وزیر داخلہ انس خطاب کو عاید پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔ شام پر ہونے والے اجلاس میں پاکستان نے امریکا کی پیش کردہ قرارداد کی حمایت کی، پاکستان کی حمایت کے ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام کے صدر احمد الشراع اور وزیر داخلہ انس خطاب کا نام داعش اور القاعدہ کی پابندیوں کی فہرست سے نکالنے کے لیے ایک مسودہ قرارداد منظور کر لیا، قرارداد کے حق میں 14 جبکہ مخالفت میں کسی نے ووٹ نہیں دیا، چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ اقوام متحدہ میں امریکا کے سفیر مائیک والٹز نے قرارداد کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس متن کی منظوری سے کونسل ایک مضبوط سیاسی اشارہ دے رہی ہے جو تسلیم کرتی ہے کہ شام ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، شامی صدر اور وزیر داخلہ سے پابندیاں ہٹائے جانے سے شامی عوام کو سب سے بڑا موقع فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے بھی اس قرارداد کا خیرمقدم کیا اور بے پناہ مواقع کے ساتھ ساتھ چیلنجز کو لیے شام کے آگے بڑھنے کے سفر پر قدم کے طور پر اس کی منظوری کو سراہا۔واضح رہے کہ یہ اقدام اْس ملاقات سے پہلے کیا گیا ہے جو شامی صدر الشراع اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین آئندہ ہفتے طے ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اور وزیر داخلہ اقوام متحدہ کی فہرست سے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک