امریکا نے شامی صدر کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست سے نکال دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن /جینوا( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام کے صدر اور وزیر داخلہ پر عاید پابندیاں اٹھا لیں۔عالمی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے جمعہ کے روز دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے منسلک شامی صدر کو خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گردوں کی فہرست سے نکال دیا جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی شامی صدر الشراع اور وزیر داخلہ انس خطاب کو عاید پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔ شام پر ہونے والے اجلاس میں پاکستان نے امریکا کی پیش کردہ قرارداد کی حمایت کی، پاکستان کی حمایت کے ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام کے صدر احمد الشراع اور وزیر داخلہ انس خطاب کا نام داعش اور القاعدہ کی پابندیوں کی فہرست سے نکالنے کے لیے ایک مسودہ قرارداد منظور کر لیا، قرارداد کے حق میں 14 جبکہ مخالفت میں کسی نے ووٹ نہیں دیا، چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ اقوام متحدہ میں امریکا کے سفیر مائیک والٹز نے قرارداد کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس متن کی منظوری سے کونسل ایک مضبوط سیاسی اشارہ دے رہی ہے جو تسلیم کرتی ہے کہ شام ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، شامی صدر اور وزیر داخلہ سے پابندیاں ہٹائے جانے سے شامی عوام کو سب سے بڑا موقع فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے بھی اس قرارداد کا خیرمقدم کیا اور بے پناہ مواقع کے ساتھ ساتھ چیلنجز کو لیے شام کے آگے بڑھنے کے سفر پر قدم کے طور پر اس کی منظوری کو سراہا۔واضح رہے کہ یہ اقدام اْس ملاقات سے پہلے کیا گیا ہے جو شامی صدر الشراع اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین آئندہ ہفتے طے ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور وزیر داخلہ اقوام متحدہ کی فہرست سے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔