ریلوے ہیڈکوارٹر کا 8 برانچ لائنوں کی بحالی و اپ گریڈیشن کا منصوبہ زیر غور
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
سعید احمد:پاکستان ریلوے ہیڈکوارٹر نے ملک بھر کی 8 برانچ لائنوں کی بحالی اور اپ گریڈیشن کے لیے بڑے منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ تیار کر لی ہے۔
ابتدائی تخمینوں کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً 100 ارب روپے خرچ ہونے کا امکان ہے۔
منصوبے کے تحت مختلف سیکشنز کی اپ گریڈیشن کی تفصیلات کے مطابق شاہدرہ–نارووال سیکشن (78 کلومیٹر): 3,909 ملین روپے،نارووال–سیالکوٹ سیکشن (62 کلومیٹر): 3,705 ملین روپے،رائیونڈ–قصور–پاکپتن ٹریک (370 کلومیٹر): 10,709 ملین روپے،قلعہ شیخپورہ–جڑانوالہ–شورکوٹ ٹریک (220 کلومیٹر): 5,669 ملین روپے،شورکوٹ–جھنگ–سرگودھا (147 کلومیٹر): 7,351 ملین روپے،سرگودھا–ملکوال–لالہ موسیٰ (167 کلومیٹر): 6,432 ملین روپے،چک جھمرہ–شاہین آباد ٹریک (68 کلومیٹر): 3,699 ملین روپے،کشمور–ڈی جی خان–کوٹ ادو لائن (303 کلومیٹر): 2,937 ملین روپے شامل ہیں۔
ویلڈن گرین شرٹس۔تھینک یو سری لنکا;چئیرمین پی سی بی محسن نقوی
ریلوے ہیڈکوارٹر کے مطابق، یہ منصوبے ملک میں ریلوے انفراسٹرکچر کو جدید بنانے، برانچ لائنوں کی کارکردگی بہتر کرنے اور مسافروں و مال برداری کی سہولتیں بڑھانے کے لیے اہم قدم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔