حکومتِ پاکستان کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں تاریخی پیش رفت ہوئی ہے۔ سیمی کنڈکٹر چِپ ڈیزائن اور ریسرچ کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس منصوبہ کو ملک کو عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں جگہ دلانے اور معیشت کو ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کرنے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں 7200 افراد کو ٹریننگ دی جائے گی۔

سیمی کنڈکٹر چپ آخر ہے کیا؟

 سیمی کنڈکٹر چِپ ایک چھوٹی سی الیکٹرانک چپ ہوتی ہے جو بجلی کے بہاؤ  کو کنٹرول کرنے کا کام کرتی ہے۔ یہ چِپ تقریباً ہر الیکٹرانک آلے جیسے موبائل فون، کمپیوٹر، گاڑی، ٹی وی، یا حتیٰ کہ جدید گھریلو مشینوں کا ’دماغ‘ سمجھی جاتی ہے۔

اس منصوبے کے لیے حکومت نے ابتدائی مرحلے میں تقریباً 4.

8 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے۔ اس کا مقصد نوجوانوں کو چِپ ڈیزائن، ویریفکیشن اور سسٹم انجینئرنگ کی تربیت دینا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ملک کی مختلف جامعات میں جدید ’انٹیگریٹڈ سرکٹ لیبارٹریز‘ قائم کی جائیں گی، جہاں ریسرچ اور پروڈکشن کے لیے جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

وزیرِ اطلاعات و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے ایک تقریب میں کہا کہ پاکستان کو اب سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی میں قدم رکھنا ہوگا کیونکہ مستقبل کی معیشت اسی صنعت پر منحصر ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اس شعبے کی تربیت حاصل کریں تاکہ پاکستان عالمی چِپ سپلائی چین کا حصہ بن سکے۔

یہ منصوبہ کتنے مراحل پر مشتمل ہے؟

یہ 3 مراحل پر مشتمل جامع پروگرام ہے، جس کا پہلا مرحلہ ‘انسپائر’ (انیشی ایٹو ٹو نرچر سیمی کنڈکٹر پروفیشنلز فار انڈسٹری، ریسرچ اینڈ ایجوکیشن) ہے، جو انسانی وسائل کی تربیت پر مرکوز ہے اور اسے 4.5 سے 4.8 بلین روپے کی عوامی شعبہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) فنڈنگ سے شروع کیا گیا ہے۔

منصوبے کے مطابق حکومت فی الحال چِپ ڈیزائن اور تحقیق پر توجہ دے رہی ہے، جبکہ آئندہ مرحلے میں اسمبلی، پیکجنگ اور ٹیسٹنگ فیسلٹیز قائم کرنے کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔ یہ ایک ایسا ماڈل ہے جو ترقی پذیر ممالک کے لیے پائیدار سمجھا جاتا ہے، کیونکہ چِپ مینوفیکچرنگ کی فیکٹریاں (فَبز) اربوں ڈالر کی لاگت اور تکنیکی پیچیدگی کی متقاضی ہوتی ہیں۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے قومی سیمی کنڈکٹر ٹاسک فورس کے چیئرمین ڈاکٹر نوید شیروانی نے بتایا کہ یہ نقشہ پاکستان کو عالمی سپلائی چین میں شامل کرے گا، جہاں سیمی کنڈکٹرز اسمارٹ فونز سے لے کر سیٹلائٹس اور الیکٹرک وہیکلز تک کی بنیاد ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت 2030 تک 1,000 سیمی کنڈکٹر انجینئرز کی تربیت کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر 7,200 پروفیشنلز کو فائیو ایئرز میں ڈیزائن، ویریفکیشن، اور ریسرچ میں مہارت دی جائے گی، جو نہ صرف ہزاروں ہائی سکلڈ جابز پیدا کرے گا بلکہ 10 بلین روپے کے نیشنل سیمی کنڈکٹر فنڈ کے ذریعے اسٹارٹ اپس کو گراںٹس اور وینچر کیپیٹل بھی فراہم کرے گا۔

دوسرا مرحلہ آؤٹ سورسڈ اسمبلی اینڈ ٹیسٹنگ (او ایس اے ٹی) پر مرکوز ہے، جو اگلے دہائی کے اندر (2035 تک) شروع ہوگا اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی مدد سے چپس کی پیکیجنگ اور ٹیسٹنگ کی صلاحیت پیدا کرے گا، جس کے لیے گلوبل پارٹنرشپس اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی ضرورت ہوگی، جبکہ خصوصی ٹیکنالوجی زونز (ایس ٹیز) میں ٹیکس چھوٹ اور انفراسٹرکچر سپورٹ دی جائے گی۔

 تیسرا اور سب سے اعلیٰ مرحلہ فل فلیجڈ فیبریکیشن ہے، جو مکمل ٹیکنالوجیکل سوورینٹی کی طرف لے جائے گا اور پاکستان کو اپنے سیمی کنڈکٹرز خود تیار کرنے کا موقع دے گا، حالانکہ اس کے لیے بھاری فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ اور انٹرنیشنل کوآپریشنز جیسے انٹیل، این ویڈیا، اور ٹی ایس ایم سی کے ساتھ اشتراک کی ضرورت ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مؤثر انداز میں مکمل کیا گیا تو پاکستان نہ صرف الیکٹرانکس، مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل سسٹمز میں خود کفیل ہو سکے گا بلکہ ٹیکنالوجی کی برآمدات کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل کر سکے گا۔ اس کے علاوہ، ہزاروں نوجوان انجینئرز اور محققین کو مقامی طور پر روزگار اور ترقی کے مواقع میسر آئیں گے۔

تاہم، چیلنجز بھی کم نہیں۔ ماہرین کے مطابق اس منصوبے کی کامیابی کے لیے طویل المدتی پالیسی، بین الاقوامی تعاون، اور تعلیمی نصاب میں جدت ضروری ہے۔ اگر حکومت اس منصوبے کو تسلسل اور شفافیت کے ساتھ آگے بڑھائے تو پاکستان خطے میں ایک اہم ٹیکنالوجی حب کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

سویڈن میں الیکٹرانکس کے شعبے میں پی ایچ ڈی کرنے والے طالبِ علم محمد افضل حمید کا کہنا تھا کہ

حکومتِ پاکستان کا سیمی کنڈکٹر چِپ منصوبہ یقیناً ایک تاریخی اور امید افزا قدم ہے جو ملک کو ڈیجیٹل معیشت کی سمت لے جا سکتا ہے، مگر اس کی کامیابی کئی عوامل پر منحصر ہے۔ منصوبے کی سمت درست ضرور ہے، کیونکہ سیمی کنڈکٹرز مستقبل کی عالمی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، تاہم پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے اس راستے میں مالی، تکنیکی اور انتظامی چیلنجز کم نہیں۔ ابتدائی طور پر 7200 افراد کی تربیت اور 1000 انجینئرز تیار کرنے کا ہدف مثبت ہے، مگر جب تک مقامی صنعت اور روزگار کے مواقع پیدا نہیں کیے جاتے، یہ تربیت یافتہ افرادی قوت بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہو سکتی ہے۔ اسی طرح، فیبریکیشن پلانٹس کی تعمیر کا ہدف فی الحال ایک طویل المدتی خواب دکھائی دیتا ہے جس کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاری، جدید انفراسٹرکچر اور پالیسی کے تسلسل کی ضرورت ہے۔

 فنڈنگ کے اعلان کے باوجود شفافیت، کارکردگی اور تحقیقاتی اداروں کی اصلاحات ناگزیر ہیں، کیونکہ ماضی میں ایسے منصوبے انتظامی کمزوریوں کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ اگر حکومت اس پروگرام کو صرف اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی بنیادوں پر شفاف، پائیدار اور عالمی شراکت داری کے ساتھ آگے بڑھائے، تو پاکستان واقعی خطے میں ایک ابھرتا ہوا ٹیکنالوجی حب بن سکتا ہے اور سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں خود کفالت حاصل کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ یہ منصوبہ حکومت کی اُس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان کو “ڈیجیٹل معیشت” کی راہ پر گامزن کرنے اور نوجوان نسل کو مستقبل کی عالمی منڈی کے لیے تیار کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سیمی کنڈکٹر چ پ پاکستان کو منصوبے کے کی تربیت سکتا ہے کرنے کا کے تحت کرے گا گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان