مزار قائد کی تزئین و آرائش: 10 سال بعد گنبد کی مکمل صفائی، درخت بڑھانے کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: 10 سال کے طویل وقفے کے بعد مزارِ قائد کے تاریخی گنبد کی مکمل صفائی، گرائنڈنگ اور پولشنگ کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے قلب میں واقع بابائے قوم محمد علی جناح کے مزار کے سفید ’مالاغوری ماربل‘ پر برسوں سے جمی دھول اور موسموں کے اثرات کے باعث اس کی چمک ماند پڑ گئی تھی، جسے اب دوبارہ اپنی اصل حالت میں بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مزارِ قائد کا 72 فٹ قطر کا گنبد گزشتہ برسوں میں محض تہواروں پر دھویا جاتا رہا، مگر اب اس کی مکمل گھسائی اور پولشنگ کا عمل 15 روز تک جاری رہے گا۔ انتظامیہ کے مطابق یہ کام بانیِ پاکستان کی 25 دسمبر کو ہونے والی یومِ پیدائش کی تقریبات کی تیاریوں کا حصہ ہے۔
مزار کے امور سے وابستہ حکام کے مطابق اس تاریخی مقام کی دیکھ بھال پورے سال جاری رہتی ہے، تاہم اس بار خصوصی توجہ گنبد اور سنگِ مرمر کی اصل چمک واپس لانے پر دی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں مزار کی صفائی عموماً جوٹ کے ذریعے کی جاتی تھی، لیکن اس بار گرائنڈنگ اور بفنگ مشینوں کی مدد سے ماربل کی گہرائی تک صفائی کی جا رہی ہے تاکہ اس پر جمی گرد، میل اور کاربن کے اثرات مکمل طور پر ختم کیے جا سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ سنگِ مرمر کی دراڑوں کو پُر کرنے کے لیے خصوصی کیمیکل استعمال کیا جا رہا ہے، جو ایک سے ڈیڑھ سال تک مؤثر رہتا ہے۔ اس دوران کاریگر برقی گرائنڈر سے ماربل کے ٹکڑوں کے جوڑوں کی صفائی اور باریک نشانات کو پُر کرنے میں مصروف ہیں۔
واضح رہے کہ مزارِ قائد کی عمارت اپنی منفرد طرزِ تعمیر کی بدولت دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہے۔ اس کا ڈیزائن مشہور آرکیٹیکٹ یحییٰ مرچنٹ نے تیار کیا تھا، جنہوں نے نہ صرف جمالیاتی پہلوؤں بلکہ آئندہ برسوں میں صفائی اور تزئین کے تقاضوں کو بھی پیش نظر رکھا تھا۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مزار کے گردونواح میں درختوں کی تعداد 2010 میں ساڑھے 4 ہزار تھی جو اب بڑھا کر 8 ہزار تک پہنچا دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اثرات سے ماربل کو محفوظ رکھنا ہے، تاکہ گرمی کی شدت مزار کی عمارت پر اثر انداز نہ ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔