data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: 10 سال کے طویل وقفے کے بعد مزارِ قائد کے تاریخی گنبد کی مکمل صفائی، گرائنڈنگ اور پولشنگ کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے قلب میں واقع بابائے قوم محمد علی جناح کے مزار کے سفید ’مالاغوری ماربل‘ پر برسوں سے جمی دھول اور موسموں کے اثرات کے باعث اس کی چمک ماند پڑ گئی تھی، جسے اب دوبارہ اپنی اصل حالت میں بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزارِ قائد کا 72 فٹ قطر کا گنبد گزشتہ برسوں میں محض تہواروں پر دھویا جاتا رہا، مگر اب اس کی مکمل گھسائی اور پولشنگ کا عمل 15 روز تک جاری رہے گا۔ انتظامیہ کے مطابق یہ کام بانیِ پاکستان کی 25 دسمبر کو ہونے والی یومِ پیدائش کی تقریبات کی تیاریوں کا حصہ ہے۔

مزار کے امور سے وابستہ حکام کے مطابق اس تاریخی مقام کی دیکھ بھال پورے سال جاری رہتی ہے، تاہم اس بار خصوصی توجہ گنبد اور سنگِ مرمر کی اصل چمک واپس لانے پر دی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ماضی میں مزار کی صفائی عموماً جوٹ کے ذریعے کی جاتی تھی، لیکن اس بار گرائنڈنگ اور بفنگ مشینوں کی مدد سے ماربل کی گہرائی تک صفائی کی جا رہی ہے تاکہ اس پر جمی گرد، میل اور کاربن کے اثرات مکمل طور پر ختم کیے جا سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ سنگِ مرمر کی دراڑوں کو پُر کرنے کے لیے خصوصی کیمیکل استعمال کیا جا رہا ہے، جو ایک سے ڈیڑھ سال تک مؤثر رہتا ہے۔ اس دوران کاریگر برقی گرائنڈر سے ماربل کے ٹکڑوں کے جوڑوں کی صفائی اور باریک نشانات کو پُر کرنے میں مصروف ہیں۔

واضح رہے کہ مزارِ قائد کی عمارت اپنی منفرد طرزِ تعمیر کی بدولت دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہے۔ اس کا ڈیزائن مشہور آرکیٹیکٹ یحییٰ مرچنٹ نے تیار کیا تھا، جنہوں نے نہ صرف جمالیاتی پہلوؤں بلکہ آئندہ برسوں میں صفائی اور تزئین کے تقاضوں کو بھی پیش نظر رکھا تھا۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مزار کے گردونواح میں درختوں کی تعداد 2010 میں ساڑھے 4 ہزار تھی جو اب بڑھا کر 8 ہزار تک پہنچا دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اثرات سے ماربل کو محفوظ رکھنا ہے، تاکہ گرمی کی شدت مزار کی عمارت پر اثر انداز نہ ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف

فائل فوٹو 

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔

سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف