لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کچھ دن قبل بیان پر سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے کسی کانام نہیں لیا تھا لیکن اس نے خود کو پہنچا لیا تو میں کیا کہوں۔ یاد رہے کہ شاہد آفریدی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ میں نے خود ویڈیو میں دیکھا کہ گدھے پر گدھا بیٹھ کر جا رہا تھا ، جھوٹے لوگ ملک سے باہر بیٹھ کر فتنہ پیدا کر رہے ہو، اگر اتنے بڑے محب وطن ہو تو پاکستان آو اور انقلاب لے کر آؤ۔

تفصیلات کے مطابق ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خان آفریدی کا کہناتھا کہ پاکستان کے باہر کیوں بول رہے ہو، پاکستان میں بیٹھ کر انقلاب لاو تو سمجھ آئے تم لوگوں کو ، آپ نوجوانوں کو مس انفارم کر رہے ہیں، پاکستان آ کر بیٹھو دیکھتا ہوں کتنے بڑے مرد ہو آپ، آج بھی ریکارڈ پر ہے کہ جب کوئی پاکستان کے باہر سے بات کرتا تھا یہ وہی لوگ تھے جو ان پر تنقید کرتے تھے آج یہ ان کی جگہ پر ہیں، یہ پہلے غلط تھے یا اب غلط ہیں۔جن کے بارے میں یہ باتیں کرتے ہیں ، انہوں نے ان کی ان کی پرورش کی ہے ، آج پیمپر سے باہر آ گئے ہیں اور ان کو لگتا ہے کہ یہ لوگ بڑے ہو گئے ہیں ۔ 

سعودی عرب میں بارشوں کی پیشگوئی

شاہد آفریدی نے پھر گیلا تیتر بھون دیا

میں نے تو کسی کا نام لیا ہی نہیں تھا، مگر گدھے کو خود ہی پتہ چل گیا،پہلے اپنے پیمپر سے تو باہر آؤ!
pic.

twitter.com/WHv13b6qQw

— Pervaiz Sandhila (@chsandhilaa) November 12, 2025

یاد رہے کہ شاہد آفریدی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سوشل میڈیا میری کمائی کا ذریعہ نہیں ہے ، میں سوشل میڈیا پر جھوٹ بول کر اپنی اولاد کو حرام نہیں کھلا سکتا، کچھ لوگ ہیں جو رجسٹرڈ جھوٹے ہیں، وہ کہتے تھے کہ ہم پاکستان چھوڑ کر نہیں جائیں گے، میں نے خود ویڈیو میں دیکھا کہ گدھے پر گدھا بیٹھ کر جا رہا تھا ، جھوٹے لوگ ملک سے باہر بیٹھ کر فتنہ پیدا کر رہے ہیں، اگر اتنے بڑے محب وطن ہو تو پاکستان آو اور انقلاب لے کر آؤ ۔

کیا شہناز گل اور شبمن گل بہن بھائی ہیں؟ اداکارہ نے وضاحت کردی

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: شاہد ا فریدی پاکستان ا بیٹھ کر

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف