میں نے اپنے بیان میں کسی کا نام نہیں لیالیکن اس نے خود کو پہنچا لیا : شاہد آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کچھ دن قبل بیان پر سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے کسی کانام نہیں لیا تھا لیکن اس نے خود کو پہنچا لیا تو میں کیا کہوں۔ یاد رہے کہ شاہد آفریدی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ میں نے خود ویڈیو میں دیکھا کہ گدھے پر گدھا بیٹھ کر جا رہا تھا ، جھوٹے لوگ ملک سے باہر بیٹھ کر فتنہ پیدا کر رہے ہو، اگر اتنے بڑے محب وطن ہو تو پاکستان آو اور انقلاب لے کر آؤ۔
تفصیلات کے مطابق ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خان آفریدی کا کہناتھا کہ پاکستان کے باہر کیوں بول رہے ہو، پاکستان میں بیٹھ کر انقلاب لاو تو سمجھ آئے تم لوگوں کو ، آپ نوجوانوں کو مس انفارم کر رہے ہیں، پاکستان آ کر بیٹھو دیکھتا ہوں کتنے بڑے مرد ہو آپ، آج بھی ریکارڈ پر ہے کہ جب کوئی پاکستان کے باہر سے بات کرتا تھا یہ وہی لوگ تھے جو ان پر تنقید کرتے تھے آج یہ ان کی جگہ پر ہیں، یہ پہلے غلط تھے یا اب غلط ہیں۔جن کے بارے میں یہ باتیں کرتے ہیں ، انہوں نے ان کی ان کی پرورش کی ہے ، آج پیمپر سے باہر آ گئے ہیں اور ان کو لگتا ہے کہ یہ لوگ بڑے ہو گئے ہیں ۔
سعودی عرب میں بارشوں کی پیشگوئی
شاہد آفریدی نے پھر گیلا تیتر بھون دیا
میں نے تو کسی کا نام لیا ہی نہیں تھا، مگر گدھے کو خود ہی پتہ چل گیا،پہلے اپنے پیمپر سے تو باہر آؤ!
pic.
یاد رہے کہ شاہد آفریدی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سوشل میڈیا میری کمائی کا ذریعہ نہیں ہے ، میں سوشل میڈیا پر جھوٹ بول کر اپنی اولاد کو حرام نہیں کھلا سکتا، کچھ لوگ ہیں جو رجسٹرڈ جھوٹے ہیں، وہ کہتے تھے کہ ہم پاکستان چھوڑ کر نہیں جائیں گے، میں نے خود ویڈیو میں دیکھا کہ گدھے پر گدھا بیٹھ کر جا رہا تھا ، جھوٹے لوگ ملک سے باہر بیٹھ کر فتنہ پیدا کر رہے ہیں، اگر اتنے بڑے محب وطن ہو تو پاکستان آو اور انقلاب لے کر آؤ ۔
کیا شہناز گل اور شبمن گل بہن بھائی ہیں؟ اداکارہ نے وضاحت کردی
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: شاہد ا فریدی پاکستان ا بیٹھ کر
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔