اردن کے شاہ عبداللہ دوم دو روزہ سرکاری دورے پر کل پاکستان پہنچیں گے
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ دورہ پاکستان اردن تعلقات کی اسٹریٹجک سمت کو مزید مضبوط کرے گا اور انہیں ایک بلند تر سطح پر لے جائے گا، جس میں سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں جامع اور وسیع البنیاد شراکت داری شامل ہوگی۔ وزارت امور خارجہ کے مطابق اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر بروز ہفتہ دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے، جس دوران ان کی وزیراعظم اور صدر سے اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں متوقع ہیں۔ قبل ازیں، اردن کے بادشاہ کا پاکستان کا آخری دورہ سابق صدر ممنون حسین کی دعوت پر ہوا تھا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے تھے، جن میں سے ایک شہری تحفظ اور دفاع کے شعبے میں تعاون سے متعلق تھی جبکہ دوسری رہائش (ہاؤسنگ) کے شعبے میں تعاون کے بارے میں تھی۔ دفتر خارجہ کے مطابق ہفتے کا یہ اعلیٰ سطح کا دورہ اسلام آباد اور عمان کے درمیان دیگر پرانے، برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ دورہ پاکستان اردن تعلقات کی اسٹریٹجک سمت کو مزید مضبوط کرے گا اور انہیں ایک بلند تر سطح پر لے جائے گا، جس میں سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں جامع اور وسیع البنیاد شراکت داری شامل ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ اپنے دورے کے دوران شادہ عبداللہ دوم صدر پاکستان اور وزیراعظم کے ساتھ اہم ملاقاتیں کریں گے اور اس دوران دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر بات چیت ہوگی۔ دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ ایوانِ صدر میں بادشاہ کو سب سے بڑے شہری اعزاز سے نوازنے کے لیے ایک خصوصی تقریب بھی منعقد کی جائے گی۔ دفتر خارجہ کے مطابق بادشاہ عبداللہ دوم کا دورہ پاکستان اردن کے دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا اور دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے دائرے اور حجم کو وسعت دینے میں معاون ثابت ہوگا۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا تھا کہ اکتوبر کے آخر میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم نے پاکستانی عسکری قیادت کے علاقائی امن اور سلامتی میں کردار کو سراہا تھا۔ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق آرمی چیف سرکاری دورے پر اردن میں تھے اور انہوں نے اردن کے بادشاہ سے ملاقات کی تھی جس میں ولی عہد حسین بن عبداللہ دوم بھی موجود تھے۔ آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ شارہ اردن نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاک فوج کے پیشہ ورانہ کردار اور خدمات کو سراہا اور دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، مزید یہ کہ آرمی چیف نے پاکستان کے عوام، حکومت اور فوج کی جانب سے نیک خواہشات پہنچائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ممالک کے درمیان اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم دفتر خارجہ کے مطابق کو مزید
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین