کراچی:

معروف اداکارہ سلمیٰ حسن نے اپنی نجی زندگی سے متعلق ایک اہم انکشاف کردیا۔

نجی ٹی وی پر مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے سلمیٰ حسن نے بتایا کہ سابق شوہر اظفر علی کے ساتھ اختلافات نے ان کی بیٹی فاطمہ کی جذباتی صحت پر گہرا اثر ڈالا۔

شو میں گفتگو کرتے ہوئے سلمیٰ حسن نے بتایا کہ فاطمہ صرف آٹھ ماہ کی تھی جب اس نے غیرمعمولی رویے دکھانا شروع کیے۔ وہ زمین پر لیٹ جاتی اور خود کو اتنا سختی سے اکڑا لیتی تھی کہ میں بھی اسکو نہیں اٹھا سکتی تھی، کبھی کبھی وہ اپنا سانس روک لیتی تھی۔

سلمیٰ نے بتایا کہ مختلف ماہرینِ نفسیات سے رجوع کیا تاہم ایک تھیراپسٹ نے فاطمہ کو دیکھنے کے بعد کہا کہ اصل مسئلہ بچی میں نہیں بلکہ ماں کی جذباتی کیفیت میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے میں نے سمجھا کہ شاید وہ غلط کہہ رہی ہیں مگر بعد میں حقیقت سامنے آئی کہ فاطمہ وہی محسوس کر رہی تھی جو میں اندر سے گزر رہی تھی۔

واضح رہے کہ سلمیٰ اپنی بیٹی فاطمہ کی سنگل مدر ہیں۔ اداکارہ کی پہلی شادی اداکار اور پروڈیوسر اظفر علی سے ہوئی تھی جو بعد ازاں نوین وقار سے تعلقات اور شادی کے باعث ختم ہوگئی تھی۔

سلمیٰ حسن نے مشہور سٹ کام ’’سب سیٹ ہے‘‘ سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا تھا، انکے مشہور ڈراموں میں خانی، بددعا، مجھے پیار ہوا تھا، پیار کے صدقے، فیری ٹیل، عشق مرشد، جان سے پیارا جونی اور بھرَم جیسے سپر ہٹ ڈرامے شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم