فرحان سعید کیخلاف کیا سازشیں کی گئیں؟ گلوکار کے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
مشہور پاکستانی گلوکار فرحان سعید نے کیریئر کے دوران مشکلات کھڑی کرنے کے حوالے سے انکشافات کیے ہیں۔
ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے فرحان سعید نے انکشاف کیا کہ دس سال کا ایسا وقت گزارا جس کے دوران میرے کنسرٹ، پروگرامز کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس کے لیے باقاعدہ لوگ بھیجے جاتے تھے تاکہ پروگرام خراب ہو اور پھر آرگنائزر میرے ساتھ کام کرنے سے انکار کردیتا تھا۔ فرحان سعید نے اس کا الزام کسی فرد واحد پر عائد نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ کوک اسٹوڈیو سمیت دیگر پلیٹ فارمز تک رسائی ملی تب بھی میرا راستہ روکا گیا اور پھر میں نے جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا۔
فرحان سعید نے بتایا کہ انہوں نے ان سارے حالات کے بعد اپنی آواز اور ٹیلنٹ سے لوگوں کو متاثر کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر دس سال کی انتھک جدوجہد کر کے مقام حاصل کیا۔
گلوکار نے یہ بھی بتایا کہ جب میں نے معروف جل دی بینڈ میں شمولیت کی تو سازش کی گئی اور ایسی باتیں بنائی گئیں جس کی وجہ سے مشکلات کا سامنا رہا۔
واضح رہے کہ 2000 کی دہائی میں لاہور سے تعلق رکھنے والے تین نوجوانوں عاطف اسلم، گوہر اور فرحان سعید نے جل بینڈ کی بنیاد رکھی اور پھر اس بینڈ کو عاطف اسلم کی آواز میں گائے ہوئے گانے ’عادت‘ سے 2003 میں عالمی شہرت ملی۔
اس کے کچھ عرصے بعد عاطف اسلم نے بینڈ سے راہیں جدا کیں جس کے بعد فرحان اور گوہر نے کچھ عرصے کام کیا، گو کہ یہ بینڈ ٹوٹا نہیں تاہم اب پروگراموں اور پرفارمنس میں دونوں ساتھ نظر بھی نہیں آتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور پھر
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔