انتظار ختم ،1500 روپے کے پرائز بانڈز رکھنے والوں کیلئے بڑی خوشخبری
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
راولپنڈی:(نیوزڈیسک) 1500 روپے کے پرائز بانڈز رکھنے والے لوگ قرعہ اندازی کے نتائج کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے تاہم اب ان کا انتظار ختم ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق 1500 روپے کا پرائز بانڈ اپنی کم قیمت اور بڑے انعامات کی بدولت پاکستان میں سب سے زیادہ مقبول سرمایہ کاری ذرائع میں شمار ہوتا ہے، اور یہ ڈرا ہر تین ماہ بعد منعقد کیا جاتا ہے۔
راولپنڈی میں نیشنل سیونگز آرگنائزیشن نے 1500 روپے کے پرائز بانڈ کے ڈرا نمبر 104 کے نتائج جاری کر دیے۔
ہزاروں سرمایہ کاروں کی نظر اس اہم قرعہ اندازی پر جمی ہوئی تھی، جو ایک بڑے انعام اور متعدد ثانوی انعامات پر مشتمل تھی۔
اس بانڈ کے پہلے انعام کی رقم 30 لاکھ روپے ہے جبکہ دوسرے انعام کے امیدواروں کو 10 لاکھ روپے دیے جاتے ہیں جبکہ تیسرے انعامات جیتنے والے 1,696 افراد کو 18 ہزار 500 روپے کا نقدم انعام دیا جائے گا۔
1500 کے انعامی بانڈ کے فاتحین کی فہرست
30 لاکھ کا پہلا انعام خوش نصیب نمبر 091925 کے نام نکلا، دوسرا انعام 106210 ، 502971 ، 916702 جبکہ تیسرا انعام کے کئی امیدوار حق دار ٹہرے۔
نیشنل سیونگز کے مطابق تیسرے انعامات کی مکمل فہرست سرکاری ویب سائٹ اور متعلقہ دفاتر میں دستیاب ہے۔
انعام جیتنے والے افراد اصل بانڈ اور شناختی کارڈ کے ساتھ اپنے انعام کا دعویٰ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے بی ایس سی فیلڈ دفاتر، نامزد کمرشل بینکوں یا نیشنل سیونگز سینٹرز سے کر سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔