پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک :حکومتِ پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرتے ہوئے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے پیٹرول کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 6 روپے مہنگا کر دیاگیا۔ڈیزل کی نئی قیمت 284 روپے 44 پیسے مقررہو گئی۔
پیٹرول کی قیمت میں کوئی ردو بدل نہیں کیا گیا ۔پیٹرول کی قیمت 265روپے 45 پیسے برقرار ہے۔پیٹرول کی قیمت آئندہ 15 روز کے لیے برقرار رہے گی۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے تناسب سے رد و بدل ہو گیا
ڈیزل کےبعدمٹی کے تیل کی قیمت میں بھی اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیاگیا۔مٹی کے تیل کی قیمت میں 9روپے 29 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے،جس سے مٹی کے تیل کی نئی قیمت 194روپے34پیسےفی لیٹر مقرر ہو گئی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کا اطلاق آج سے ہوگا،اس سے قبل مٹی کے تیل کی قیمت 185روپے5پیسے فی لیٹر مقررتھی۔
گرین شرٹس آج روایتی حریف کو کرکٹ سکھانے کے لئے میدان میں آئیں گے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مٹی کے تیل کی قیمت پیٹرول کی قیمت کی قیمت میں
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔