بھارت ظالمانہ کارروائیوں کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور کرنے میں ناکام، حریت رہنماء
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
حریت رہنمائوں نے کہا کہ یہ گرفتاریاں کشمیریوں کو خوفزدہ کرنے اور محکوم رکھنے کی بھارت کی دانستہ اور منظم پالیسی کا حصہ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں حریت رہنمائوں اور تنظیموں نے بھارت کی ہندوتوا بی جے پی حکومت اور اس کی قابض انتظامیہ کی طرف سے پرامن اور آزادی پسند کشمیریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جاری محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق حریت رہنمائوں اور تنظیموں بشمول غلام محمد خان سوپوری، محمد سلیم زرگر، فیاض حسین جعفری، مولانا سید سبط شبیر قمی، ایڈووکیٹ ارشد اقبال، مولانا مصعب ندوی، فہمیدہ بانو، تحریک حریت جموں و کشمیر، جموں و کشمیر مسلم لیگ، جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی، مسلم خواتین مرکز، تحریک خواتین کشمیر اور دیگر نے سرینگر سے جاری اپنے الگ الگ بیانات میں کریک ڈائون کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دن کے دوران سینکڑوں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر کے مختلف جیلوں اور حراستی مراکز میں منتقل کیا گیا ہے۔ حریت رہنمائوں نے کہا کہ یہ گرفتاریاں کشمیریوں کو خوفزدہ کرنے اور محکوم رکھنے کی بھارت کی دانستہ اور منظم پالیسی کا حصہ ہیں جس کا مقصد انہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت تسلیم شدہ اپنے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے سیاسی مطالبے سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال اور پورے مقبوضہ علاقے کے محاصرے نے صورتحال معمول پر آنے کے بی جے پی حکومت کے کھوکھلے دعوئوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ حریت رہنمائوں نے کہا کہ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قوانین کے تحت بھارتی قابض فورسز مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے انہیں ہراساں کرنے، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور دہشت گردی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حریت رہنمائوں اور کارکنوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کی غیر قانونی گرفتاریاں، شہری آزادیوں کی معطلی، اختلاف رائے پر قدغن، مسلم سرکاری ملازمین کی جبری برطرفیاں اور گھروں اور زمینوں کی ضبطگی نے مودی حکومت کے مقبوضہ کشمیر میں امن اور ترقی کے جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کشمیر پر اپنے من گھڑت بیانیہ کے ذریعے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حریت رہنمائوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کیلئے بھارت پر دبائو بڑھائے۔ جدوجہد آزادی کشمیر کو جاری رکھنے کے کشمیری عوام کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے حریت رہنمائوں نے کہا کہ بھارت ظلم و تشدد اور فوجی طاقت کے وحشیانہ استعمال کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت حریت کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ظلم و بربریت، ریاستی دہشت گردی، سازشوں اور دیگر ظالمانہ ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری اپنے شہداء کے مشن کو اس کے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے لیے ثابت قدم اور پرعزم ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی اور یورپی یونین سمیت عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور وحشیانہ مظالم کا فوری نوٹس لے اور کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلانے کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے بھارت پر دبائو ڈالے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حریت رہنمائوں نے کہا کہ اقوام متحدہ انہوں نے بھارت کی
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔