پرویز شاہ کا کہنا ہے کہ بھارت نے آزادی پسند قیادت کو طویل عرصے سے بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی جیلوں میں نظربند کر رکھا ہے اس کے باوجود وہ کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو ختم کرنے میں ناکام رہا۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے آزادی پسند رہنمائوں اور کارکنوں کے گھروں پر بلاجواز چھاپوں اور محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران چھ سو سے زائد کشمیریوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سیکرٹری جنرل ایڈووکیٹ پرویز شاہ نے اسلام آباد سے جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی فورسز بے گناہ کشمیریوں کو نشانہ بنا کر تحریک آزادی کشمیر کو طاقت کے بل پر دبانے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں اور چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے آزادی پسند قیادت کو طویل عرصے سے بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی جیلوں میں نظربند کر رکھا ہے اس کے باوجود وہ کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو ختم کرنے میں ناکام رہا۔ انہوں نے بھارتی جیلوں میں نظربند حریت رہنمائوں کی بگڑتی ہوئی صحت پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ جیل انتظامیہ کشمیری حریت پسند قیدیوں کو طبی اور دیگر سہولیات فراہم نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی جیلوں میں نظربند کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ اور محمد یاسین ملک جیسے رہنما مختلف عارضوں میں مبتلا ہو چکے ہیں جنہیں علاج معالجے کی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی ہے جو انسانی حقوق کی تنظیموں کیلئے سوالیہ نشان ہے۔حریت رہنما نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں دس لاکھ سے زائد بھارتی فوجی تعینات ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جیلوں میں نظربند کہ بھارت انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا