کراچی کی خواتین کیلئے خوشخبری؛ بڑی سہولت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک :شہر قائد میں رہنے والی خواتین کیلئے سندھ حکومت کی جانب سے خوشی کی خبر ہے۔
سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے اعلان کیا ہے کہ کراچی میں پنک بس سروس کے نئے روٹ کا آغاز کیا جا رہا ہے، یہ نیا روٹ 17 نومبر 2025ء سے شروع ہوگا، جو عبداللہ چوک سے نمائش تک ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں یہ سروس 3 مخصوص اوقات میں دستیاب ہوگی، جن میں صبح 8 سے 9 بجے، دوپہر 1 سے 2 بجے اور شام 5 سے 7 بجے تک خواتین سفر کر سکیں گی، صرف خواتین کے لیے مخصوص سروس میں سفر کے دوران آرام، تحفظ اور بہتر انتظامات کو ترجیح دی جائے گی۔
ویلڈن گرین شرٹس۔تھینک یو سری لنکا;چئیرمین پی سی بی محسن نقوی
شرجیل میمن نے اپنے بیان میں کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں خواتین کو روزانہ سفر کے دوران جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ سروس ان کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد دے گی، حکومت سندھ چاہتی ہے کہ خواتین اعتماد کے ساتھ اپنے تعلیمی، ملازمت اور ذاتی معاملات نمٹا سکیں۔
سینئر صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ بسوں میں سیکورٹی، ٹریکنگ سسٹم اور تربیت یافتہ عملے کی سہولت موجود ہوگی، مستقبل میں اس سروس کو دیگر علاقوں تک بڑھانے کا بھی منصوبہ ہے۔
پاکستان نے سری لنکا کو ہرا دیا
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام خواتین کے لیے محفوظ شہری ماحول کی طرف ایک بامعنی قدم ہے، سندھ حکومت آئندہ بھی خواتین کو سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کرتی رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔