زیادہ پروسیسڈ خوراک کھانے والی خواتین میں رسولیوں کا امکان بڑھ جاتا ہے، ماہرین کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایک تازہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ وہ خواتین جو اپنی روزمرہ غذا میں الٹرا پروسیسڈ کھانوں کا زیادہ استعمال کرتی ہیں، ان میں مستقبل میں باول کینسر کے خطرات نمایاں حد تک بڑھ سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق ایسے کھانے معدے اور آنتوں میں وہ ابتدائی تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں جو بظاہر تو غیر کینسر زدہ ہوتی ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ خطرناک رسولیوں میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
یہ مطالعہ جریدے جاما اونکولوجی میں شائع ہوا جس میں ماہرین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ خوراک کس طرح آنتوں کے نظام میں ابتدائی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کو متاثر کرتی ہے۔
تحقیق کے تحت 45 برس کی اوسط عمر رکھنے والی 29 ہزار سے زائد خواتین کی کئی برسوں تک نگرانی کی گئی جب کہ ہر 4 سال بعد ان سے غذائی عادات کے بارے میں تفصیلی سروے بھی لیا جاتا رہا۔
نتائج کے مطابق وہ خواتین جو مسلسل الٹرا پروسیسڈ اشیا استعمال کرتی تھیں، ان میں باول میں غیر کینسر زدہ لیکن تشویشناک رسولی، یعنی ایڈینوما، بننے کے امکانات 45 فیصد تک زیادہ پائے گئے۔ ماہرین کے مطابق یہی رسولیاں آگے چل کر باول کینسر کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہیں، اس لیے کھانے پینے کی عادات پر توجہ دینا بے حد ضروری ہے۔
تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ نتائج واضح کرتے ہیں کہ خوراک کا انتخاب صرف وزن یا توانائی تک محدود نہیں بلکہ آنتوں کی اندرونی صحت اور مستقبل میں لاحق ہونے والی بیماریوں پر بھی براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔
انہوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ ممکنہ حد تک تازہ، قدرتی اور کم پروسیسڈ غذائیں استعمال کریں تاکہ باول کینسر جیسے خطرات سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔