دل کی جلن نظرانداز کرنا مہلک مرض کا سبب بن سکتا ہے، ماہرین صحت
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
دل کی جلن ایک عام ہاضماتی مسئلہ ہے جو اکثر مصالحہ دار یا تلی ہوئی غذاؤں کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔ یہ عام طور پر کھانے کے بعد یا لیٹے ہوئے محسوس ہوتی ہے اور سینے میں جلن، منہ میں کھٹا یا کڑوا ذائقہ، نگلنے میں دشواری اور غذا یا کھٹی مائع کی ریگورجٹیشن جیسے علامات کا سبب بن سکتی ہے۔ دل کی جلن اس وقت ہوتی ہے جب معدے کا تیزاب واپس غذائی نالی میں چلا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: آنکھوں کا ویسکولر سسٹم دل کی بیماریوں کے خطرات ظاہر کرسکتا ہے، تحقیق
ڈاکٹر سوربھ سیٹھ، جو ‘گٹ ڈاکٹر’ کے نام سے مشہور ہیں اور ہارورڈ اور اسٹینفورڈ یونیورسٹیوں میں تربیت یافتہ گیسٹرو اینٹرولوجسٹ ہیں، کا کہنا ہے کہ اگر دل کی جلن کو نظرانداز کیا جائے تو یہ سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔
انہوں نے انسٹاگرام ویڈیو میں کہا، ‘حال ہی میں میں نے ایک مریض کا علاج کیا جو دائمی دل کی جلن میں مبتلا تھا اور بعد میں غذائی نالی کے سرطان کا شکار ہو گیا۔ دل کی جلن اس وقت ہوتی ہے جب نچلی غذائی نالی کا اسپنکٹر کھانے کے بعد بند نہیں ہوتا اور معدے کا تیزاب غذائی نالی میں واپس آ جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ پری کینسرس زخم، جسے بیریٹز ایسوفیگس کہتے ہیں اور بالآخر غذائی نالی کے سرطان کا سبب بن سکتے ہیں۔’
یہ بھی پڑھیں: ذیابطیس نوجوانوں میں دل کی بیماریوں، اموات کی بڑی وجہ
دائمی دل کی جلن اکثر گیسٹروایسوفیجیئل ریفلیکس بیماری (سی ای آر ڈی) کے ساتھ منسلک ہوتی ہے اور غذائی نالی کے سرطان کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔ معدے کے تیزاب کے مسلسل اثر سے غذائی نالی کی پرت میں سوزش اور نقصان ہو سکتا ہے، جو بیریٹز ایسوفیگس کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس حالت میں غذائی نالی کی خلیات میں تبدیلی آتی ہے اور وہ سرطان کے لیے زیادہ حساس ہو جاتی ہیں۔
وقت پر اقدامات کرنے سے غذائی نالی کے سرطان کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے اور دل کی جلن کی علامات کو مؤثر طریقے سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر سیٹھ نے کہا، ‘اگر کبھی کبھار دل کی جلن ہو تو بائیں طرف لیٹ کر سوئیں، رات کا کھانا سونے سے کم از کم 3 سے 4 گھنٹے پہلے کھائیں اور کھانے کے بعد بغیر میٹھے سونف استعمال کریں۔ آپ کچھ اوور دی کاؤنٹر اینٹی ایسڈ ادویات بھی آزما سکتے ہیں۔’
یہ بھی پڑھیں: ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ وجہ سامنے آگئی
انہوں نے مزید کہا کہ کھانے کی عادات میں تبدیلی، چھوٹے اور زیادہ بار کھانے، کھانے کے بعد سیدھا رہنا، سونے کے وقت سر کو اونچا رکھنا، الکحل اور کیفین کم کرنا، صحت مند وزن برقرار رکھنا، تمباکو نوشی چھوڑنا اور ضرورت پڑنے پر اوور دی کاؤنٹر ادویات کا استعمال دل کی جلن کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
‘ڈاکٹر سے کب رجوع کریں’ڈاکٹر سیٹھ نے زور دیا، ‘اگر آپ کو مسلسل دل کی جلن ہو رہی ہے تو اپنے ڈاکٹر سے ضرور بات کریں، خاص طور پر اگر نگلنے میں دشواری یا کھانے کا پھنسنے کا احساس ہو۔’
انہوں نے خبردار کیا کہ اکثر لوگ دائمی دل کی جلن یا ایسڈ ریفلیکس کو معمولی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، مگر مسلسل ریفلیکس غذائی نالی کی پرت کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور بعض صورتوں میں غذائی نالی کے سرطان میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 14 سالہ بچے نے دل کی بیماری کا پتا لگانے والی اے آئی ایپ تیار کرلی
ڈاکٹر سیٹھ نے آخر میں کہا، ‘یاد رکھیں، ہر کسی کو یہ علامات ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سرطان میں مبتلا ہے۔’
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بیماری جلن دل ماہر صحت مہلک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ماہر صحت مہلک غذائی نالی کے سرطان یہ بھی پڑھیں کھانے کے بعد کا سبب بن دل کی جلن سکتا ہے ہوتی ہے ہے اور
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب