مسرت اور جمشید چیمہ کی عبوری ضمانت میں توسیع
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251108-01-3
لاہور (آن لائن) انسداد دہشت گردی کی عدالت لاہور میں جناح ہاؤس، عسکری ٹاور اور 9 مئی کے جلاؤ گھیراؤ سے متعلق آٹھ مقدمات کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے مسرت جمشید چیمہ اور جمشید اقبال چیمہ کی عبوری ضمانت میں 12 دسمبر تک توسیع کر دی۔سماعت کے دوران جمشید اقبال چیمہ عدالت میں پیش ہوئے اور حاضری مکمل کرائی، جبکہ مسرت چیمہ بیماری کے باعث پیش نہ ہو سکیں۔ عدالت نے مسرت چیمہ کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کر لی۔انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج منظر علی گل نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے حکم دیا کہ مسرت جمشید چیمہ سے متعلق تفتیش مکمل کی جائے، جبکہ جمشید اقبال چیمہ کی حد تک تفتیش پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزمان کے وکلاء کو عبوری ضمانتوں پر دلائل کے لیے پیش ہونے کی ہدایت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔