سپریم کورٹ، وکلا کی سہولت اور عدالتی کارکردگی بہتر بنانے پر اہم ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251108-01-4
اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ بار کے صدر ہارون الرشید اور سیکرٹری ملک زاہد اسلم نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی، جس میں عدالتی کارکردگی میں بہتری اور وکلا کی سہولت کے امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ سپریم کورٹ بار کی جانب سے ایڈووکیٹس آن اسپیشل کاز کو کیس فائل کرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی، جسے چیف جسٹس نے منظور کرتے ہوئے متعلقہ دفتر کو عملدرآمد کے احکامات جاری کر دیے۔ بار کے اعلامیے کے مطابق، پبلک فسیلیٹیشن سینٹر میں سروسز بہتر بنانے کے لیے ڈپٹی رجسٹرار تعینات کرنے کی تجویز بھی دی گئی، جس پر چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ڈپٹی رجسٹرار روزانہ مخصوص اوقات میں خدمات فراہم کریں ۔ مزید یہ کہ نئے ضمانت کے مقدمات دو ہفتوں میں سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں گے، جبکہ پرانے مقدمات کی سماعت ترجیحی پالیسی کے مطابق جاری رہے گی۔ چیف جسٹس نے یقین دہانی کرائی کہ بار روم کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، مستقل پیش ہونے والے وکلا کو سینئر ایڈووکیٹ آف سپریم کورٹ کا درجہ دینے کی تجویز بھی زیر غور لائی گئی۔ ملاقات میں عدالتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور وکلا کی سہولت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ چیف جسٹس
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔