امریکا نے عراق کی پارلیمانی انتخابات کی کامیابی پر مبارکباد دی
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکا کے خصوصی ایلچی برائے عراق مارک ساوایا عراق کی پارلیمانی انتخابات کی کامیاب تکمیل پر ملک کی عوام کو مبارکباد دی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق ساوایا نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ یہ انتخابات عراق میں جمہوریت اور استحکام کو مضبوط کرنے کی جانب اہم قدم ہیں، انہوں نے وزیراعظم محمد شیا السودانی کی حکومت کی تعریف کی کہ انہوں نے انتخابات کو وقت پر اور شفاف طریقے سے کرایا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراق ترقی اور خود مختاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔
امریکا کے ایلچی نے مزید کہا کہ واشنگٹن عراق کی خود مختاری اور اصلاحات کی حمایت جاری رکھے گا اور نئی حکومت کے ساتھ سیکیورٹی، توانائی اور ترقی کے شعبوں میں اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے تیار ہے۔
عراق میں انتخابات 11 نومبر کو ہوئے، جن میں ووٹر ٹرن آؤٹ 56.
عراق میں روایتی طور پر اہم سیاسی طاقتیں کمیونٹی کی بنیاد پر تقسیم ہوتی ہیں: صدر کا عہدہ کرد کمیونٹی کے لیے، وزیراعظم کا عہدہ شیعہ کمیونٹی کے لیے، اور اسپیکر پارلیمنٹ کا عہدہ سنی کمیونٹی کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔