لیاقت آباد کی تعمیر و ترقی کا سفر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ٗ منعم ظفرخان
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے امیر ضلع وسطی کامران سراج، ٹاؤن چیئرمین لیاقت آباد فراز حسیب، وائس چیئرمین اسحاق تیموری اور چیئرمین یوسی 3 لیاقت آباد یونس بندھانی کے ساتھ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن لیاقت آباد کے تحت شاہراہ عمران عباس کا افتتاح کیا۔افتتاح کے موقع منعم ظفر خان نے کہا کہ لیاقت آباد کی تعمیر و ترقی کا سفر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔مرحوم وائس چیئرمین یوسی 3عمران عباس سے منسوب تعمیر شدہ سڑک لیاقت آباد کے عوام کے لیے ایک تحفہ ہے۔ بانٹوا نگر اور بندھانی کالونی کے عوام کے لیے جماعت اسلامی کی جانب سے ڈیڑھ لاکھ اسکوائر فٹ سے زاید سڑک کی تعمیر مکمل کی گئی جو خدمت، تعمیر اور ترقی کی علامت ہے۔ لیاقت آباد کے عوام نے جماعت اسلامی پر اعتماد کیا ہے اور جماعت اسلامی اس اعتماد کو خدمت، تعمیر اور ترقی کے ذریعے مضبوط تر بنارہی ہے۔2 سال کے مختصر عرصے میں جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمین اور وائس چیئرمین نے لیاقت آباد ٹاؤن کے تمام 15 پارک آباد کردیے ہیں۔ جو پارکس کبھی ویران اور غیر محفوظ سمجھے جاتے تھے، آج وہاں بچے اور فیملیز خوشی کے لمحات گزارنے آتے ہیں۔ اسی طرح کھیلوں کے میدان بھی بحال کیے جا رہے ہیں جبکہ عنقریب محمدی گراؤنڈ کو شاندار انداز میں عوام کے لیے کھولا جائے گا۔ محمدی اسپورٹس کمپلیکس اور منصورہ ماڈل کمپلیکس کی بحالی پر بھی کام جاری ہے۔انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت ای چالان کے نام پر اہل کراچی پر ظلم ڈھا رہی ہے ،ظالمانہ جرمانے عوام کے لیے ناقابل برداشت ہیں، شہریوں سے جرمانوں کے نام پر بھتا وصولی بند کی جائے۔ جماعت اسلامی نے ای چالان کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن جمع کرادی ہے۔ اہل کراچی کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھاتے رہیں گے۔اس موقع پر کو آرڈینٹر صغیر احمد انصاری،ڈائریکٹر سینی ٹیشن انور جمال، ڈائریکٹر پارکس ریحان ہمدانی،ڈائریکٹر انفارمیشن فہیم مصطفی و دیگر افسران بھی موجود تھے ۔انہوں نے کہا کہ قابض میئر بلدیاتی اداروں کے کاموں اور عوامی خدمت میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں لیکن جماعت اسلامی کے نمائندے اختیارات و وسائل کی کمی اور قابض میئر کی سازشوں کے باوجود ترقیاتی کام جاری رکھیں گے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانا ناگزیر ہے، عوامی نمائندوں کو اختیارات دے کر ہی شہر کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ سندھ حکومت شہریوں کی مشکلات کم کرنے کے بجائے بڑھا رہی ہے جبکہ کراچی کے شہری اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں، سیاست نہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی خدمت سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر ہی خرچ ہوگا۔جماعت اسلامی کراچی کے شہریوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے کیونکہ عوام ہمارے ساتھ ہیں اور ہم ان کے حقوق کے محافظ ہیں۔منعم ظفر نے کہا کہ ہزاروں اسٹریٹ لائٹس نصب کرکے لیاقت آباد کو روشن کردیا گیا ہے۔ سیوریج، پانی اور کچرے کے مسائل صوبائی حکومت کی ذمے داری ہیں، لیکن سندھ حکومت اور مرتضیٰ وہاب جو کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں ان مسائل سے غافل ہیں۔ پیپلز پارٹی گزشتہ 17 سال سے اقتدار میں ہے مگر اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کو تیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی تعلیم کے شعبے میں بھی اصلاحات لارہی ہے۔ ماضی کے سرکاری تعلیمی ادارے جہاں کبھی نامور شخصیات تعلیم حاصل کرتی تھیں، آج ویران پڑے ہیں، مگر جماعت اسلامی ان اسکولوں کو ازسرنو بحال کرکے معیاری تعلیمی اداروں میں تبدیل کررہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی انہوں نے کہا لیاقت ا باد عوام کے لیے نے کہا کہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں